غزہ میں "ریزگاری” (چھوٹے سکے/نوٹ) کس طرح خریدی اور بیچی جانے والی جنس (اشیاء) میں تبدیل ہو گئی ہے؟

0
3

غزہ، یاسر البنا: ساٹھ سالہ محمود بصل اپنے دن کا ایک بڑا حصہ ایسے سودے طے کرنے کی کوشش میں گزارتے ہیں جن کی قسمت میں عموماً نامکمل رہنا ہی لکھا ہوتا ہے۔ غزہ کی ایک بیکری میں لین دین اپنے آخری مرحلے پر اس وقت رک جاتا ہے، جب دکاندار بقیہ رقم واپس کرنے کے لیے چھوٹے سکوں یا نوٹوں (ریزگاری/فکہ) کی عدم دستیابی پر انہیں چند روٹیاں دینے سے معذرت کر لیتا ہے، یوں روٹی کا پیکٹ شیلف پر اور رقم گاہک کی جیب میں ہی دھری رہ جاتی ہے۔

یہ پریشان کن صورتحال محض بیکری کی دہلیز تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ یہی منظر سبزی منڈی، میڈیکل سٹور (فارمیسی) کی کھڑکی، اور یہاں تک کہ میٹھا پانی تقسیم کرنے والے ٹرک کے سامنے بھی دہرایا جاتا ہے، جہاں بڑے کرنسی نوٹ خریداری کے ذریعے کے بجائے، عام سی لین دین مکمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

اس سلسلے کی سب سے بڑی الجھن ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سامنے آتی ہے؛ جہاں محمود خود کو بار بار انتظار گاہ کے فٹ پاتھ پر پاتے ہیں، جب ڈرائیور اسی وجہ سے انہیں بٹھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ "ریزگاری” کا بحران انہیں ایک کٹھن روزمرہ کی صورتحال سے دوچار کر دیتا ہے: ان کی جیب میں سفر کا کرایہ اور دن بھر کی خوراک کی رقم موجود ہوتی ہے، لیکن وہ طویل فاصلہ پیدل طے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور گھر کی بنیادی ضروریات پوری کیے بغیر ہی واپس لوٹتے ہیں۔

محمود بصل کا یہ تجربہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں، بلکہ یہ اس روزمرہ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا غزہ کے تمام باشندے بلاتفریق اپنیے سادہ سے لین دین میں کر رہے ہیں؛ نوجوان عماد عقل کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔

عقل نے الجزیرہ نیٹ کو کرنسی کی چھوٹی اکائیوں کی عدم موجودگی کے براہ راست اثرات بتاتے ہوئے کہا: "مجھے اپنے کام کی جگہ سے گھر تک دو کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے، کیونکہ راستے کا کرایہ دینے کے لیے ریزگاری دستیاب نہیں ہوتی، اور ڈرائیور بڑے نوٹ لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔”

عقل کے مطابق، چھوٹی لین دین کے لیے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے الیکٹرانک ادائیگیاں بھی کوئی کارگر حل نہیں، ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ دکاندار اشیاء کی اصل قیمت سے نصف یا دوتہائی زیادہ رقم وصول کرتے ہیں۔

اس بحران کے اثرات محض صارفین تک محدود نہیں، بلکہ یہ پٹی کی روزمرہ تجارتی سرگرمیوں کی بنیاد کو بھی ہلا رہے ہیں؛ غزہ میں ایک شوارما ریسٹورنٹ کے مالک، رائد ابو سیدو، ایک تاجر اور شہری کی دوہری حیثیت سے بات کرتے ہوئے اس مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ابو سیدو نے "الجزیرہ نیٹ” کے ساتھ ایک انٹرویو میں چھوٹے سکوں کی عدم موجودگی سے پیدا ہونے والی معاشی تنزلی کے حجم کا انکشاف کرتے ہوئے کہا: "ریسٹورنٹ کے اندر روزانہ کی 50 فیصد خرید و فروخت ناکام ہو جاتی ہے اور اسے مکمل طور پر منسوخ کر دیا جاتا ہے، اور اس کی سادہ سی وجہ نقد لین دین کو مکمل کرنے کے لیے ریزگاری کا دستیاب نہ ہونا ہے۔”

الجزیرہ نیٹ،

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں