مرکز اطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجرم قابض اسرائیلی دشمن کی فوج کی جانب سے غزہ میں پیلی لائن کو مغرب کی سمت منتقل کرنے کا گھناؤنا اقدام اور اس کے ساتھ ہی پٹی میں ہمارے مظلوم عوام پر کی جانے والی وحشیانہ بمباری اور انہیں زبردستی بے گھر کرنے کا لامتناہی سلسلہ دراصل جنگ بندی کے معاہدے کی ایک کھلی اور ننگی خلاف ورزی ہے۔
حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں سخت الفاظ میں واضح کیا کہ یہ خطرناک قدم دراصل قابض اسرائیلی دہشت گرد حکومت کے سربراہ کی ان دھمکیوں کا عملی ثبوت ہے جس کے تحت وہ غزہ پر اپنے غاصبانہ تسلط کے دائرہ کار کو بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ نام نہاد پیس کونسل اور اس کے ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف کی شرمناک خاموشی جبکہ ثالث اور ضامن ممالک کی اس نئی سنگین خلاف ورزی کو روکنے میں مکمل بے بسی کے سائے میں کیا جا رہا ہے۔
حازم قاسم نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ غاصب دشمن کی یہ تمام تر مجرمانہ خلاف ورزیاں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب دوسری طرف قاہرہ میں مذاکرات کا عمل تندہی سے جاری ہے اور تمام فلسطینی دھڑوں نے امن کی خاطر انتہائی مثبت اور ذمہ دارانہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے اس ہولناک سچائی کو کھول کر بیان کیا کہ مجرم دشمن کی طرف سے کی جانے والی یہ مسلسل خلاف ورزیاں اس کی بدنیتی کو عیاں کرتی ہیں کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کو نافذ کرنے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ دانستہ طور پر مذاکرات کے راستے میں بارود بھرنا، امن کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کو ناکام بنانا اور اپنے گندے سیاسی مفادات اور انتخابی حساب کتاب کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس خونی کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔


