
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج نے بدھ کی شام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 12 اسیران کو رہا کر دیا ہے جنہیں سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہ رہا ہونے والے اسیران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ذریعے دیر البلح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچے تاکہ اپنا علاج معالجہ کروا سکیں، ان اسیران کو رفح کے مشرق میں واقع کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے رہا کیا گیا تھا۔
صحافتی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان اسیران کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے کیونکہ انہیں گذشتہ مدت کے دوران غزہ کی پٹی کے اندر سے حراست میں لیا گیا تھا اور وہ قابض دشمن کی قید میں انتہائی سنگین اور انسانیت سوز حالات کا سامنا کر رہے تھے۔
ان اسیران کی رہائی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب قابض اسرائیل کی مقتدرہ تاحال ہزاروں فلسطینیوں کو کسی واضح الزام یا قانونی ٹرائل کے بغیر اپنے عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں قید کیے ہوئے ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے ہزاروں اسیران کو بدترین جسمانی تشدد اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے جبکہ ان میں سے ہزاروں کو مزاحمت کے ساتھ ہونے والے تبادلے کے سودوں کے تحت رہا کیا جا چکا ہے۔
مرکز فلسطین برائے دفاع حقوق اسیران کا کہنا ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ سکیورٹی اداروں اور عدالتی نظام کے ساتھ مل کر ایسے قوانین اور اقدامات وضع کر رہی ہے جن کے ذریعے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو طویل عرصے تک قید میں رکھا جا سکے۔
مرکز نے گذشتہ بیانات میں اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ پالیسیاں فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے اور ان پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں، ساتھ ہی ان کا تعلق داخلی سیاسی مفادات اور ممکنہ تبادلے کے سودوں کی فائلوں سے بھی ہے۔


