غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی قابض دشمن کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں، 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی

0
4

مرکز اطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی قابض افواج کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اتوار کے روز خان یونس اور دیر البلح پر ہونے والے دو اسرائیلی فضائی حملوں میں چار شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ ایک اور شہری شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ پٹی کے وسط میں واقع شہر دیر البلح کے شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے گردونواح پر ہونے والے قابض اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں تین شہری شہید ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے ذکر کیا ہے کہ قابض دشمن کے طیاروں نے شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے قریبی علاقے میں ایک لنگر خانے (کھانا تقسیم کرنے والے مرکز) پر بمباری کی جس کے نتیجے میں تین شہری شہید ہوئے جن کی شناخت دیر البلح شہر سے احمد سالم ابو اسد، جبالیہ کے رہائشی 34 سالہ عبدالرحمن احمد محمد محیسن اور ابراہیم ریان کے ناموں سے ہوئی ہے۔

اس سے قبل ایک طبی ذریعے نے تصدیق کی تھی کہ خان یونس میں رفح کار پارکنگ کے علاقے پر قابض دشمن کے طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں شہری عبداللہ احمد ابو مصطفیٰ شہید اور کئی دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا کے مقام پر قابض اسرائیل کی گذشتہ بمباری میں زخمی ہونے والا شہری جہاد سلمان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔

مقامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کی صبح قابض دشمن کی توپ خانے نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے مشرقی اور جنوبی علاقوں پر گولہ باری کی۔

اسی طرح خان یونس کے مشرق اور جنوب میں قابض دشمن کی فوجی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی جبکہ پٹی کے وسط میں واقع البريج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی حصے پر قابض دشمن کے توپ خانے نے گولہ باری کی۔

قابض اسرائیلی افواج پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد زرد لکیر (یلو لائن) کے اندر دھماکوں اور تباہی کی کارروائیاں بھی جاری ہیں جبکہ سامان، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 10 اکتوبر کو سیز فائر کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 876 ہو گئی ہے جبکہ 2562 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس دوران ملبے سے 776 جسد خاکی نکالے جانے کا اندراج کیا گیا ہے۔

سات اکتوبر سنہ 2023ءسے شروع ہونے والی غاصبانہ جارحیت اور نسل کشی کے آغاز سے اب تک کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 72,768 شہداء اور 172,664 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جنگ کے بھاری انسانی جانی نقصان کا واضح ثبوت ہے۔