
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے غزہ میں خان یونس اور رفح کے مواصی علاقوں میں دو فلسطینی شہری شہید ہو گئے، جبکہ ایک اور زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس سے قبل غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں قابض دشمن کی کارروائی میں تین فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس میں بنی سہیلہ چوک کے قریب قابض اسرائیل کی نشانہ بازی کے نتیجے میں نوجوان محمود سلیمان الفقعاوی شہید ہو گیا۔
آج صبح ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ خان یونس کے جنوب میں قیزان النجار کے مقام پر قابض دشمن کی گاڑیوں سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری شہید ہوا، جبکہ عبداللہ النجار نامی شہری جو چند روز قبل قابض اسرائیل کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا، آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گیا۔
پیر کی علی الصبح وسطی غزہ کی پٹی کے شہر دیر البلح میں قابض اسرائیلی افواج کے حملے میں تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دیر البلح میں المزرعہ سکول کے قریب موقع 14 کے گرد و نواح میں قابض دشمن کے ڈرون طیارے نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق شہداء میں 23 سالہ محمد یونس العدینی، 23 سالہ المنتصر باللہ عز الدین بشیر اور 32 سالہ محمد حسن ابو الروس شامل ہیں۔
اسی تناظر میں شمالی غزہ کی پٹی کے علاقے جبالیا میں الحلبی چوک کے قریب قابض فوج کی گولیوں سے 4 فلسطینی زخمی ہوئے۔
علاوہ ازیں قابض دشمن کی توپ خانے نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح کے مغربی علاقے الشاکوش، شہرِ غزہ کے شمال مشرق میں واقع محلہ التفاح کے مشرقی حصوں اور خان یونس کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی۔
گذشتہ روز مقامی ذرائع نے بتایا تھا کہ خان یونس میں صلاح الدین روڈ اور سٹریٹ 5 کے سنگم پر قابض اسرائیل کی فائرنگ سے 48 سالہ یحییٰ سعید یحییٰ الاغا شہید ہو گئے تھے۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی یا سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور آج اس خلاف ورزی کا مسلسل 184 واں دن ہے۔ دشمن کی جانب سے توپ خانے، ڈرون طیاروں اور براہ راست فائرنگ کے ذریعے پناہ گزین مراکز اور بے گھر فلسطینیوں کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
میدانی جارحیت کے ساتھ ساتھ انسانی صورتحال بھی بدتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ امداد کی فراہمی پر پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ قابض اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ سامان کی ترسیل کو کنٹرول کر کے فاقہ کشی کی انجینئرنگ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اس انسانی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کر رہا جس کے تحت روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ لازمی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2024ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 756 ہو گئی ہے جبکہ 2100 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملبے کے نیچے سے 760 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی نسل کشی اور جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 72,335 تک جا پہنچی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,202 ہو گئی ہے، جو اس جاری جنگ کی بھاری انسانی قیمت کا واضح ثبوت ہے۔

