مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ قابض اسرائیلی محاصرے کو توڑنے اور مظلوم فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچانے کے عظیم مقصد کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا نے اٹلی میں اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اتوار کے روز یہ قافلہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو رہا ہے۔
یہ فلوٹیلا ایک سول اقدام ہے جس کا آغاز سنہ 2025ء میں مختلف ممالک کی سول تنظیموں کے نمائندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور رضاکاروں کی شرکت سے کیا گیا تھا۔ اب یہ قافلہ اٹلی سے اپنے دوسرے سفر مشن موسم بہار سنہ 2026ء کے تحت روانگی کے لیے تیار ہے۔
امدادی جہازوں کا یہ سفر 12 اپریل سنہ 2026ء کو ہسپانوی شہر بارسلونا سے شروع ہوا اور 23 اپریل کو یہ اطالوی جزیرے صقلیہ پہنچے جہاں دیگر شریک کشتیاں بھی اس کا حصہ بن گئیں۔ ان تمام جہازوں نے جزیرے کے مشرقی حصے میں واقع بندرگاہ اوگوستا میں اپنی تیاریاں مکمل کیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے ہفتے کے روز جہازوں پر بنیادی ضرورت کی اشیاء جن میں پانی، روٹی، پھل اور سبزیاں شامل ہیں لادیں جبکہ ایندھن کا ذخیرہ بھی کیا گیا۔ بندرگاہ پر آخری مراحل کی تیاریوں کے دوران ترک وفد نے شرکاء میں مٹھائی بھی تقسیم کی۔
اٹلی میں فلوٹیلا کی ترجمان ماریا ایلینا ڈالیا نے تصدیق کی کہ وہ اور تمام جہاز اوگوستا بندرگاہ پر مکمل تیار ہیں اور ویزوں سمیت روانگی کی تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
اطالوی ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ روانگی کا عمل اتوار کی دوپہر شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بیڑے میں لگ بھگ 65 جہاز شامل ہیں اس لیے ان کی روانگی کے عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن آخر کار ہم 26 اپریل سنہ 2026ء کو اپنی منزل کی جانب نکل پڑیں گے۔
ایلینا ڈالیا نے اشارہ کیا کہ فلوٹیلا سب سے پہلے یونان کا رخ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے بحیرہ روم میں پیدا ہونے والی غیر یقینی جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیش نظر یونان ہمارا پہلا پڑاؤ ہو گا جہاں ہم رک کر حالات کا جائزہ لیں گے۔
دوسری جانب سماجی کارکن عبد اللطیف فصلی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ضرورت کی تمام اشیاء کشتیوں اور جہازوں پر لاد دی ہیں اور اگر سمندر میں کوئی ہنگامی صورتحال پیش نہ آئی تو انشاء اللہ ہم کل یعنی اتوار کو روانہ ہو کر اپنا سفر جاری رکھیں گے، ہمیں آپ کی حمایت کا انتظار ہے۔ فصلی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فلوٹیلا مختلف نظریات کے حامل افراد کو ایک ہی مقصد کے لیے متحد کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہاں دنیا بھر سے ایسے لوگ جمع ہوئے ہیں جن کی شخصیات، آراء، نظریات اور سیاسی وابستگیاں مختلف ہیں لیکن ان سب کا واحد مقصد اہل غزہ کی آزادی اور ان کی نسل کشی کا خاتمہ ہے۔
یہ گلوبل صمود فلوٹیلا کی دوسری بڑی کوشش ہے اس سے قبل ستمبر سنہ 2025ء میں بھی غزہ پہنچنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس بار شرکاء کی تعداد دوگنی کر دی گئی ہے اور ایک نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ فلوٹیلا کی گزشتہ کوشش ستمبر سنہ 2025ء میں بارسلونا سے شروع ہوئی تھی جس میں 42 کشتیاں اور 462 افراد شریک تھے۔ فلوٹیلا کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ انہیں روکنے کے لیے قابض اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ جارحیت سے نہیں ڈرتے اور ان کا واحد مقصد ہر صورت غزہ پہنچنا ہے۔
یکم اکتوبر سنہ 2025ء کو قابض اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندری حدود میں غزہ کی جانب بڑھنے والے صمود فلوٹیلا کے 42 جہازوں پر حملہ کر دیا تھا اور جہازوں پر سوار سینکڑوں بین الاقوامی کارکنوں کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں منتقل کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی کا سنگدلانہ محاصرہ کر رکھا ہے اور جاری سفاکیت اور نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کی تقریباً 24 لاکھ آبادی میں سے 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔


