غزہ کے نڈر فوٹوگرافرز نے آزادی کا عالمی اعزاز گولڈن پین آف فریڈم اپنے نام کر لیا

0
2

مرکز اطلاعات فلسطین

اخبارات اور خبروں کے ناشرین کی عالمی تنظیم نے غزہ پٹی کے فوٹوگرافروں اور ویڈیو ڈائریکٹروں کے لیے سنہ 2026ء کا معتبر ترین عالمی اعزاز "گولڈن پین آف فریڈم” (قلمِ زریں برائے آزادی) دینے کا اعلان کیا ہے جن کا تعلق دنیا کی تین بڑی عالمی نیوز ایجنسیوں فرانس پریس، ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائیٹرز سے ہے۔

یہ اعلیٰ ترین بین الاقوامی اعزاز ان سرفروش صحافیوں کی گراں قدر قربانیوں کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے جنہوں نے قابض اسرائیل کی طرف سے جاری وحشیانہ نسل کشی کی جنگ کے ہولناک ابواب کو اپنی جانوں پر کھیل کر دستاویزی شکل دی اور غاصب صیہونی دشمن کی طرف سے غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر عائد منظم اور ظالمانہ پابندی کے باوجود دنیا تک سچائی پہنچائی۔

فرانس کے جنوب میں واقع ساحلی شہر مارسیلی میں آئندہ پیر کے روز نیوز میڈیا کی 77 ویں عالمی کانفرنس کے موقع پر اس باوقار اعزاز کو دینے کی ایک پروقار تقریب منعقد کی جائے گی۔

یہ فلسطینی صحافی میدانِ عمل میں موجود اپنے تمام ہیرو ساتھیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، جہاں فوٹوگرافرز محمد سالم (رائیٹرز)، فاطمہ شبیر (ایسوسی ایٹڈ پریس) اور محمد البابا (اے ایف پی) کو قلم اور کیمرے کے اپنے دیگر غازی رفقاء کی طرف سے یہ اعزاز وصول کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں فلسطینی فوٹوگرافر محمد البابا نے، جنہوں نے غزہ سے روانگی سے قبل پورے سات ماہ تک صیہونی مہمات اور ہولناک قتلِ عام کو اپنے کیمرے میں قید کیا، اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اعزاز اپنے اندر عظیم انسانی اور پیشہ ورانہ معانی سمیٹے ہوئے ہے۔

محمد البابا نے انتہائی فخر اور گہرے رنج و الم سے بھرپور لہجے میں کہا کہ یہ اعزاز صرف زندہ بچ جانے والے فوٹوگرافروں کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن میں وہ جاں نثار صحافی سرِفہرست ہیں جنہوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور وہ جو زخمی ہوئے، اسیر ہوئے، لاپتہ کر دیے گئے یا جو اب بھی غزہ کے میدانِ کارزار میں ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں اور درحقیقت وہی اس جدوجہد کا ہر اول دستہ ہیں۔

محمد البابا نے صیہونی جرائم کو بے نقاب کرنے والے اپنے عدسوں کے تاریخی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر یہ تصاویر اور یہ دل ہلا دینے والی ویڈیو فلمیں نہ ہوتیں تو دنیا میں بیداری کی یہ تبدیلی کبھی نہ آتی، ان تاریخی کاموں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا اور بین الاقوامی صحافتی سوچ کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہ اعزاز ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تنظیم نے غزہ کے غیور صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی جنگ کا مورخ قرار دیا ہے جو ان کے چاروں طرف بھڑکائی گئی اور وہ خود بھی اس وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنے۔

تنظیم "نامہ نگار بلا حدود” کی رپورٹس فلسطینی صحافتی برادری کی طرف سے ادا کی جانے والی بھاری اور دردناک قیمت کی تصدیق کرتی ہیں، جہاں سات اکتوبر سنہ 2023ء میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک قابض اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ اور بمباری سے 260 سے زائد قلم کار اور صحافی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔