مرکزاطلاعات فلسطین
ایسی گھڑی میں جب دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر نئے سرے سے انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مطابق یہ ایک ایسی منظم پالیسی ہے جس کا مقصد قتل، گرفتاری، تعاقب اور پابندیوں کے ذریعے فلسطینی بیانیے کی آواز کو خاموش کرنا اور زمین پر موجود حقائق کو مسخ کرنا ہے۔
اسیران کے نمائندہ اداروں (محکمہ امور اسیران ، کلب برائے اسیران اور ضمیر فاؤنڈیشن) نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر گذشتہ تقریبا دو سال سے جاری جنگ فلسطینی صحافت کی تاریخ کا خونریز ترین دور ثابت ہوئی ہے۔ اس عرصے میں 260 سے زائد صحافی اور صحافی خواتین جام شہادت نوش کر چکے ہیں جنہیں فیلڈ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
اس جنگ کے دوران ایسے صحافیوں کے نام نمایاں ہوئے جنہوں نے بمباری اور تباہی کی کوریج کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران مرتب کی گئی گہری انسانی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، مسلسل بمباری، مواصلاتی نظام کی معطلی اور میڈیا کے دفاتر و عملے کو نشانہ بنائے جانے کے باعث غزہ میں رپورٹنگ ایک ناممکن مشن بن چکی ہے۔
اس جنگ میں شہید ہونے والے نمایاں صحافیوں میں وہ نامہ نگار اور فوٹو گرافر شامل ہیں جنہوں نے موت کے سائے میں بمباری کے لمحات کو محفوظ کیا۔ عالمی تحفظ کے فقدان کے باعث غزہ میں کوریج کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہو چکا ہے۔ شہداء کی اس فہرست میں انس الشریف، محمد قریقہ، حسام شبات، محمد سلامہ، مریم ابو دقہ، فاطمہ حسونہ، محمد التلمس اور مروان الصواف جیسے نام شامل ہیں۔
یہ رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ غزہ کی پٹی میں صحافتی ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، جہاں درجنوں میڈیا ادارے تباہ کر دیے گئے اور کام کے لیے درکار بنیادی سہولیات بھی ختم ہو گئیں۔ اس صورتحال نے صحافیوں کو انتہائی کٹھن حالات میں، بغیر کسی حفاظتی سامان کے اور روزمرہ کے جانی خطرات کے درمیان کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کی افواج نے 240 سے زائد صحافیوں اور صحافی خواتین کو گرفتار کیا، جن میں سے 40 سے زائد تاحال قید ہیں۔ ان میں سے تقریبا 20 صحافی بغیر کسی واضح الزام کے انتظامی حراست میں ہیں، جن میں چار خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ گرفتاریوں کے حالیہ واقعات میں بیت لحم کے دہیشہ کیمپ سے صحافی اسلام عمارنہ کی گرفتاری نمایاں ہے، جو پہلے سے انتظامی قید کاٹ رہے صحافی اسید عمارنہ کی بہن ہیں۔
غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے کم از کم 14 صحافی اب بھی زیر حراست ہیں، جبکہ دو صحافی نضال الوحیدی اور ہیثم عبد الواحد جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور ان کے بارے میں کوئی بھی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
اسی دوران قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر ایک اور المناک واقعہ پیش آیا جہاں مارچ سنہ 2026ء میں صحافی مروان حرز اللہ مجدو جیل میں جان بوجھ کر برتی گئی طبی غفلت کے باعث شہید ہو گئے۔ وہ پہلے ہی طبی مسائل کا شکار تھے اور ان کا ایک پاؤں بھی کٹا ہوا تھا، مگر قابض دشمن نے انہیں علاج سے محروم رکھا۔
یہ خلاف ورزیاں صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ فلسطینی صحافیوں کو گھروں میں نظر بندی، بے دخلی اور کوریج سے روکنے جیسی منظم پابندیوں کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس میں جہاں سمیہ جوابرہ اور بیان الجعبہ جیسی صحافیوں کو مسلسل دھمکیوں اور تعاقب کا سامنا ہے۔
انسانی حقوق کی رپورٹس اور چشم دید گواہان کے بیانات سے حراست کے دوران انسانیت سوز حالات کا انکشاف ہوا ہے، جن میں جسمانی و نفسیاتی تشدد، بھوکا رکھنا، بدسلوکی، علاج اور ملاقاتوں پر پابندی اور طویل عرصے تک تنہائی میں رکھنا شامل ہے۔ کئی صحافیوں کو انتہائی بگڑی ہوئی طبی حالت میں رہا کیا گیا، جن میں مجاہد بنی مفلح شامل ہیں جنہیں دماغی ہیمرج ہوا، اور علی السمودی جن کا انتظامی حراست کے دوران وزن 60 کلوگرام تک کم ہو گیا۔
اسیران کے اداروں کا کہنا ہے کہ "اشتعال انگیزی” یا "خفیہ فائل” جیسے الزامات کے تحت انتظامی حراست کا استعمال اظہار رائے کی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔ یہ اقدامات، بشمول قتل اور جبری گمشدگی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
یہ سب کچھ غزہ میں میڈیا کے ماحول کو نشانہ بنانے کے اس وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے جس کا مقصد جرائم کی دستاویز بندی کو روکنا اور غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر میڈیا کا پردہ ڈالنا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر اسیران کے اداروں نے تمام اسیر صحافیوں کی فوری رہائی، لاپتہ افراد کے انجام کو ظاہر کرنے اور ان کے خلاف جاری مظالم کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور مجرموں کے محاسبے اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری حرکت میں آئیں، کیونکہ صحافت سچائی اور آزادی اظہار کے تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔


