
مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطینی حریت پسند محمود العدرہ جو اپنے انقلابی نام ہشام حرب سے معروف ہیں کے اہل خانہ سے وابستہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے پیرس کے کئی ماہ سے جاری مطالبے کے بعد آج بروز جمعرات کی صبح انہیں فرانسیسی حکام کے سپرد کر دیا ہے۔
ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ محمود العدرہ کو پہلے اردن منتقل کیا گیا، جس کے بعد دیگر باخبر ذرائع کی تصدیق کے مطابق انہیں ایک نجی طیارے کے ذریعے فرانس روانہ کر دیا گیا۔
اخبار العربی الجدید نے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے دس سے گیارہ بجے کے درمیان رام اللہ اور البیرہ کی القدس گورنری کے پولیس چیف علی القیمری کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ محمود العدرہ اس وقت اردن کے راستے پر ہیں جہاں سے انہیں فرانس منتقل کیا جائے گا۔
یہ افسوسناک پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 16 اپریل سنہ 2026ء کو رام اللہ کی مجسٹریٹ عدالت میں انہیں فرانسیسی حکام کے حوالے کرنے کی درخواست پر سماعت ہونا تھی، لیکن عدالتی کارروائی کے دوران انہیں عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔
کیس کی پیروی کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی گئیں، جس سے اس مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ ان کی حوالگی کا عمل فرانسیسی مطالبے پر کسی بھی فلسطینی عدالتی فیصلے کے آنے سے قبل ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔
اسی ضمن میں سرکاری فلسطینی ذرائع نے العربی الجدید کو بتایا تھا کہ فرانسیسی حکام کو مطلوب محمود العدرہ گزشتہ منگل کی علی الصبح رام اللہ کے ایک ہسپتال سے فرار ہو کر الخلیل کے جنوب میں واقع قصبے یطا میں اپنے آبائی گھر پہنچ گئے تھے، تاہم فلسطینی سکیورٹی فورسز نے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ہسپتال سے فرار ہونے کے واقعے کے تناظر میں ان کے خاندان کے تقریباً چھ ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن میں خواتین اور مرد شامل ہیں۔
دوسری جانب محمود العدرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی پولیس نے گزشتہ پیر کو کئی مرتبہ ان کا پاسپورٹ طلب کیا تھا، جو اس بات کی واضح علامت تھی کہ انہیں آئندہ چند روز میں فرانس کے حوالے کرنے کے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ محمود العدرہ سنہ 1955ء میں پیدا ہوئے اور وہ اپنے تنظیمی نام ہشام حرب سے پہچانے جاتے ہیں، وہ فلسطینی سکیورٹی ونگ میں ریٹائرڈ کرنل کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔
فلسطینی پولیس نے انہیں گذشتہ سال 19 ستمبر کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانس کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو باضابطہ تسلیم کیے جانے کا اعلان متوقع تھا۔


