مرکزاطلاعات فلسطین
امریکی مفکر فریڈرک ڈگلس کا کہنا ہے کہ "اگر جدوجہد نہیں تو ترقی بھی ممکن نہیں, طاقت بغیر مطالبے کے کبھی کچھ پیش نہیں کرتی، نہ اس نے کبھی ایسا کیا ہے اور نہ کبھی کرے گی”۔ غلامی کے خلاف تاریخی جدوجہد کے تناظر میں جنم لینے والا یہ قول آج فلسطینی صورتحال پر مکمل صادق آتا ہے، جہاں مزاحمت قانون سے ہم آہنگ ہے اور صہیونی بیانیہ حقیقت سے ٹکرا رہا ہے۔
غزہ کی پٹی، مغربی کنارہ، مقبوعہ بیت المقدس اور اندرون فلسطین کے ہر گوشے میں جاری قابض اسرائیل کی بے مثال سفاکیت کے بیچ مزاحمت کی مسلمہ مشروعیت پر بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک قانونی اور اخلاقی مقدمہ ہے جو موجودہ عالمی نظام کی حدود کو بے نقاب کرتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے قواعد اور اقوام متحدہ کی قراردادیں ایک راسخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قبضے کے زیر اثر رہنے والی اقوام کو اپنی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد سمیت ہر طرح کی مزاحمت کا اصیل حق حاصل ہے۔ تاہم یہ حق متن میں واضح ہونے کے باوجود عالمی قوتوں کے رائج بیانیے میں غائب یا مسخ شدہ نظر آتا ہے، جو محض قابض دشمن کے نقطہ نظر اور اس کے اس پروپیگنڈے کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے دہائیوں سے مسلمہ حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال قانون اور اس کے اطلاق کے درمیان ایک گہری خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔
قانونی فریم ورک: حق خودارادیت میں پیوست آئینی حق
یہ حق جوہر کے اعتبار سے حق خودارادیت کے اصول پر قائم ہے، جو جدید عالمی نظام کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دہائیوں سے استعمار اور غیر ملکی تسلط کے زیر اثر اقوام کی جدوجہد کیے جواز کی تائید کی ہے اور اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کی آزادی کی کوشش بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہے۔
اس تناظر میں سنہ 1982ء کی قرارداد نمبر 37/43 نے اس بحث کو دوٹوک انداز میں ختم کر دیا، جب اس نے واضح طور پر "تمام دستیاب ذرائع بشمول مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی کے لیے اقوام کی جدوجہد کے جواز” کی منظوری دی۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ مزاحمت قانون سے انحراف نہیں بلکہ اسی کا ایک حصہ ہے۔
عالمی منظرنامہ قانونی نصوص یا حوالہ جات کی کمی کا شکار نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ان کے نفاذ کے طریقہ کار میں خرابی اور دوہرے معیار کا ہے۔ ایک طرف مزاحمتی سرگرمیوں کو حد سے زیادہ اچھالا جاتا ہے، تو دوسری طرف قابض قوت کی منظم خلاف ورزیوں، بستیوں کی تعمیر، طویل محاصرے اور اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کو دانستہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں 30 ماہ کے دوران 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، مگر عالمی برادری اس نسل کشی کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ یہ تلخ حقیقت عالمی انصاف کے نظام میں موجود دوہرے معیار اور گہرے بگاڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔
اس تناظر میں سرکاری مغربی بیانیہ درحقیقت صہیونی پروپیگنڈے کا ہی چربہ معلوم ہوتا ہے، جس نے عالمی سطح پر گمراہ کن تصورات اور غلط بیانیوں کی بھرمار کر رکھی ہے۔ اگرچہ شعور کی بیدار لہر کے سامنے اس کا اثر کم ہوا ہے، لیکن سرکاری میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ اب بھی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا ایک مربوط ذریعہ بنا ہوا ہے۔
یہ بیانیہ سب سے پہلے مزاحمتی فعل کو اس کے تاریخی اور سیاسی پس منظر سے الگ کرتا ہے اور اسے ایک انفرادی واقعے کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا غصب شدہ حقوق سے کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ بین الاقوامی قانون کسی بھی عمل کو اس کے ڈھانچہ جاتی حالات کے تناظر میں سمجھنے پر زور دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ بیانیہ "دفاعِ خود” کا حق صرف اس قابض قوت (اسرائیل) کو دیتا ہے جو خود بین الاقوامی سطح پر مجرم اور جوابدہ ہے، جبکہ مقبوضہ قوم کے اس حق کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے جو انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلط کے خلاف اور آزادی کے حصول کے لیے حاصل ہے۔
قابض دشمن کی دہشت گردی اور مزاحمت کا تحریکِ آزادی ہونا
خرابی اس وقت مزید گہری ہو جاتی ہے جب "دہشت گردی” کی اصطلاح کو مزاحمت کے جواز چھیننے کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی کوئی متفقہ عالمی تعریف موجود نہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ فلسطینیوں کے ہر عمل کو تشدد کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر وہ مسلح ہو تو "دہشت گردی”، اگر عوامی ہو تو "ہنگامہ آرائی” اور اگر پرامن بائیکاٹ جیسی مہم ہو تو اسے "اشتعال انگیزی” قرار دیا جاتا ہے۔ الفاظ کا یہ لچکدار استعمال ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ فعل میں نہیں بلکہ فاعل (فلسطینی) اور عالمی طاقت کے ترازو میں اس کے مقام میں ہے۔
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ یہ بیانیہ ماضی کی ملتی جلتی مثالوں کو فراموش کر دیتا ہے، جہاں مسلح جدوجہد کرنے والی تحریکوں کو بعد میں "تحریکِ آزادی” تسلیم کیا گیا۔ جدید تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے گروہوں کو بعد میں جائز تحریکیں مانا گیا۔ یہ تضاد سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے کہ تشدد کی تعریف میں استعمال ہونے والے پیمانے کیا ہیں؟ کب اسے "مزاحمت” کہا جاتا ہے اور کب اسے دوبارہ "دہشت گردی” کا نام دے دیا جاتا ہے؟۔
مزاحمت: ایک انسانی اور سیاسی تناظر
فلسطینی مزاحمت کو اس کے انسانی اور سیاسی پس منظر سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ یہ مسلسل جارحیت، بڑھتے ہوئے محاصرے، سیاسی افق کی معدومی اور بڑھتی ہوئی مایوسیوں کے ماحول کی پیداوار ہے۔ ایسے حالات میں مزاحمت محض ایک اختیاری راستہ نہیں بلکہ مسلط شدہ حقیقت کا اظہار اور اپنی زندگی پر اثر انداز ہونے کی ایک کوشش بن جاتی ہے۔
سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ مزاحمت کی ہر شکل خواہ وہ پرامن ہو یا مسلح اسے ایک جیسے ہی جابرانہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پرامن مظاہرین کو کچلا جاتا ہے، کارکنوں کو گرفتار کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور علاقوں کا محاصرہ کر لیا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ مسئلہ مزاحمت کے طریقے کا نہیں بلکہ سرے سے اس کے وجود کا ہے۔ یہ دشمنی صرف مزاحمت تک محدود نہیں بلکہ فلسطینی وجود، زمین اور انسان کے خلاف ہے جس کا ثبوت مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں روزانہ کی بنیاد پر قتل و غارت، جبری بے دخلی اور زمینوں پر قبضہ ہے۔ اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک یہودی آباد کاروں کے 8691 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جہاں میدانی تشدد اور سرکاری توسیعی منصوبہ بندی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ معرکہ صرف میدانی حقائق کا نہیں بلکہ ان مفاہیم کا بھی ہے جو ان حقائق کی تشریح کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مفاہیم کی تعریف کرنے اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا یہ وہ عالمی طاقتیں ہیں جو کھلے عام یا ڈھکے چھپے انداز میں قابض اسرائیل کی حلیف ہیں؟ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جنگ صرف زمین پر نہیں بلکہ بیانیے کے میدان میں بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں قانونی زبان اور سیاسی اصطلاحات کو حقیقت کو مسخ کرنے یا کسی کی جوازپر وار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اقوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے والے قانونی متن اور اس حق کو محدود کرنے والے سیاسی بیانیے کے درمیان مسئلہ فلسطین عالمی نظام کی ساکھ کے لیے ایک زندہ امتحان بن کر کھڑا ہے۔ اس تضاد کے سائے میں یہ سوال شدت سے موجود ہے کہ: ایک ایسا عالمی نظام جو نظریاتی طور پر اقوام کی آزادی کے حقوق کا اقرار کرتا ہے، وہ ایک مقبوضہ قوم کے اپنی حقیقت بدلنے اور مزاحمت کرنے کے حق کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟ کیا مسئلہ قانونی قواعد کی کمی ہے، یا ان قواعد کو منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر نافذ کرنے کے لیے سیاسی ارادے کا فقدان؟


