فوجی بیرکیں اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں لٹ رہی ہیں: اسرائیلی فوج میں اسلحہ چوری کے متعلق حقائق

0
5

گزشتہ ہفتے کے روز اسرائیلی حکام نے دو فوجیوں سمیت کئی افراد کو فوجی اڈوں سے اسلحہ چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ یہ اسرائیلی فوجی اڈوں سے اسلحہ غائب ہونے کا تازہ ترین واقعہ ہے، جو کہ حالیہ برسوں میں ایک تسلسل کے ساتھ پیش آنے والا معمول بن چکا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ان افراد کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی کم از کم چار مختلف چوریوں کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گروہ فوجی اڈوں سے چوری شدہ اسلحہ ملک کے اندر ہی نامعلوم مقامات پر منتقل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

ملٹری پولیس کی تحقیقاتی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ فوج کے گودام (اسٹورز) غیر قانونی اسلحے کی ایک ایسی کھلی منڈی بن چکے ہیں جہاں سے ہر کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیلی فوجی اڈوں کے اندر چوری کے تقریباً 200 بڑے واقعات درج ہوئے، جن میں سے سالانہ 20 کے قریب وارداتیں انتہائی سنگین نوعیت کی تھیں۔

اسرائیلی حکام نے 2024 سے 2026 کے درمیانی برسوں میں چوری کے کئی بڑے واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں واقعہ جنوبی علاقے میں واقع "سدیہ تیمان” فوجی اڈے سے 30 ہزار گولیوں کی چوری ہے، جبکہ شمال اور مقبوضہ گولان کے اڈوں سے 70 ہزار گولیاں چوری کی گئیں۔ مجموعی طور پر فوجی بیرکوں سے اب تک ایک لاکھ سے زائد گولیاں غائب ہو چکی ہیں۔

قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ یہ چوریاں صرف بندوقوں یا پستولوں جیسے چھوٹے ہتھیاروں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان میں تباہ کن ہتھیار جیسے ٹینک شکن میزائل، مارٹر گولے، زمینی افواج کے لیے تیار کردہ جدید دفاعی نظام، مشین گنیں، دستی بم اور رات کے وقت دیکھنے والے جدید ترین آلات (نائٹ ویژن ڈیوائسز) بھی شامل ہیں۔ ان چوری شدہ اشیاء کی سالانہ بازاری قیمت لاکھوں ڈالرز تک جا پہنچتی ہے۔

الجزیرہ ڈاٹ نیٹ، 10 مئی 2026

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں