مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل کی صہیونی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں موسم گرما کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصوں میں دو نئی غیر قانونی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدام آباد کاری کے اس تیز ترین منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد وادی اردن پر کنٹرول کو مزید مضبوط کرنا اور کسی بھی ممکنہ سیاسی تبدیلی سے قبل زمین پر غاصبانہ حقائق مسلط کرنا ہے۔
عبرانی ویب سائٹ وائے نیٹ کے مطابق یہ دو نئی بستیاں بیزک اور تامون کے نام سے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے وادی اردن میں قائم کی جائیں گی۔ یہ دونوں بستیاں ایسی تزویراتی جگہوں پر بنائی جا رہی ہیں جہاں سے وادی اردن پر نظر رکھی جا سکے گی۔ یہ علاقہ ان فلسطینی قصبوں کے قریب واقع ہے جنہیں قابض فوج مخمس القری کہتی ہے، جن میں طوباس، طمون، تیاسیر، العقبة اور فارعہ کیمپ شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ قدم قابض اسرائیل کی سلامتی و سیاسی امور کی مختصر کابینہ کابینہ کے اس فیصلے کی عملی تعبیر ہے جس کی منظوری گذشتہ سنہ 2025ء کے ماہ دسمبر میں دی گئی تھی۔ آباد کاری کے سرکردہ رہنما اس منصوبے کو وقت کے ساتھ ایک دوڑ قرار دے رہے ہیں تاکہ آباد کاری کے اس نوآبادیاتی منصوبے کو جتنا ممکن ہو سکے وسعت دی جا سکے۔
رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ زمینوں پر غاصبانہ قبضے اور آباد کاروں کی منتقلی کے لیے اس وقت کا انتخاب اتفاقی نہیں ہے، بلکہ یہ آباد کار کونسلوں کے رہنماؤں اور اسرائیلی سیاسی قیادت کے درمیان اس تفہیم کا نتیجہ ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل زمینی حقائق تبدیل کر دیے جائیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ کوئی نئی آنے والی حکومت ان منصوبوں کو منجمد کر سکتی ہے یا ان پر عمل درآمد سے انکار کر سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ بیزک اور تامون نامی یہ بستیاں شومرون آباد کار کونسل کی قیادت میں چلنے والے ایک وسیع تر منصوبے کا پہلا مرحلہ ہیں، جس کا ہدف شمالی مغربی کنارے میں 18 نئی بستیاں قائم کرنا ہے۔ کونسل نے پہلے ہی ان علاقوں میں نئی آباد کار ٹولیوں کو بسانے کے لیے افراد کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شومرون آباد کار کونسل کے سربراہ یوسی دغان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی زمین پر قبضے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان نئی بستیوں کا مقصد اس آباد کاری کے خلا کو پر کرنا ہے جو سنہ 2005ء میں انخلاء کے منصوبے کے بعد پیدا ہوا تھا۔
اسی تناظر میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ قابض حکومت نے اپنی تشکیل کے بعد سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں 100 سے زائد نئی بستیوں اور چوکیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے ایک خفیہ اجلاس میں مزید 34 بستیوں کے قیام کا بھی فیصلہ کیا تھا، جسے امریکہ کے دباؤ کے خوف سے میڈیا سے مخفی رکھا گیا تاکہ اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آباد کاری میں اس بے تحاشہ اضافے نے خود قابض فوج کے اندر بھی تنقید کو جنم دیا ہے۔ چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ آباد کاری میں اس طرح کی توسیع فوج کی صلاحیتوں پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریزرو فورسز پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور نئی بھرتیوں میں کمی کے باعث فوج اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قابض حکومت کے وزراء بزلئیل سموٹریچ اور یسرائیل کاٹز آباد کار رہنماؤں کے ساتھ مل کر آئندہ موسم گرما کو آباد کاری کی طاقت کا مظاہرہ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ نئی بستیوں بالخصوص جانیم، کیدیم، حومش اور صانور میں تعمیراتی کاموں کو تیز کر کے انہیں انتخابی مہم میں اپنی میدانی کامیابیوں کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


