قابض دشمن نے حرم ابراہیمی بند کر دی، عید الاضحی کے موقع پر نمازیوں پر وحشیانہ تشدد

0
3

مرکز اطلاعات فلسطین

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع الخلیل شہر کی تاریخی مسجد ابراہیمی میں بدھ کی صبح شہریوں کی ایک محدود تعداد نے ہی عید الاضحی کی نماز ادا کی، جہاں قابض اسرائیل کی طرف سے انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات، مسجد کے دروازوں کی بندش اور نمازیوں پر صوتی بموں کی برسات کا سامنا کرنا پڑا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی ظالم افواج نے مسجد ابراہیمی کے دروازے بند کر دیے اور داخلی راستوں پر نمازیوں کی تلاشی لی، جس کی وجہ سے داخلے میں شدید تاخیر کے بعد کئی نمازی مجبورا دوسری مساجد کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قابض افواج نے مسجد کے ارد گرد صوتی بم داغے جس سے عید کی تکبیرات کے گونجتے ہوئے ماحول میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ وہاں پہنچنے والے نمازیوں کی تعداد کا تخمینہ صرف 300 کے لگ بھگ لگایا گیا ہے۔

الخلیل کے گورنر خالد دودین نے اناطولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عید الاضحی مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے لیکن قابض اسرائیل نے حرم ابراہیمی کے دروازے بند کر دیے اور عید کی خوشیاں منانے آئے ہوئے نمازیوں پر صوتی بم برسائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نمازیوں کی یہ تعداد معمول کے مقابلے میں 30 فیصد سے بھی زیادہ نہیں بڑھ سکی، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حرم ابراہیمی کے اندر ہر لحاظ سے مذہبی تبدیلی اور بدترین مذہبی دہشت گردی کی عکاسی کرتا ہے۔

خالد دودین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کا اولین فریضہ ہے کہ ہم چار ہزار سال سے زائد پرانی اس اسلامی اور تاریخی یادگار کی حفاظت کے لیے حرم ابراہیمی میں ثابت قدمی، پامردی اور صمود کے ساتھ جمے رہیں۔

یہ تاریخی مسجد الخلیل شہر کے پرانے قصبے میں واقع ہے جو مکمل طور پر قابض اسرائیل کے تسلط میں ہے، جہاں تقریبا 1500 اسرائیلی فوجیوں کی سخت سکیورٹی میں لگ بھگ 400 یہودی آباد کار وہاں زبردستی رہائش پذیر ہیں۔

سنہ 1994ء میں ایک وحشی یہودی آباد کار کی طرف سے کی جانے والی ہولناک سفاکیت اور قتلِ عام کے نتیجے میں 29 فلسطینی نمازیوں کی شہادت کے بعد قابض اسرائیل نے اس مسجد کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، جس کے تحت 63 فیصد حصہ یہودیوں کے لیے اور 37 فیصد حصہ مسلمانوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ دور میں مخصوص مذہبی مواقع بشمول عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر یہ مسجد مسلمانوں کے لیے مکمل طور پر کھول دی جاتی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں غاصب دشمن کی طرف سے اس پر پابندیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی طرف سے شروع کی جانے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے مغربی کناروں میں قابض افواج اور انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے حملوں میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، بالخصوص ان دیہی اور بدوئی علاقوں میں جو یہودی بستیوں اور ان کی چوکیاں کے بالکل قریب واقع ہیں۔

فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق مغربی کناروں میں اس بڑھتی ہوئی سفاکیت کے نتیجے میں اب تک 1168 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 12 ہزار 666 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 23 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 33 ہزار کو زبردستی ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے۔