مرکز اطلاعات فلسطین
فلسطینی اسیران کے سب سے قدیم قیدی اور ممتاز رہنما نائل البرغوثی نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اسیران کی سزائے موت اور سات اکتوبر سنہ 2023ء کے زیر حراست افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے مزید قوانین کی منظوری کی کوششیں ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر قتل و غارت گری کو قانونی شکل دینا ہے، جو فلسطینیوں کے خلاف جاری ہمہ گیر جنگ کا ایک حصہ ہے۔
نائل البرغوثی نے کہا کہ یہ نئے قوانین قابض اسرائیل کی انسانیت دشمن فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسیران کے خلاف سزائے موت کی قانون سازی دراصل اس خطے میں قابض اسرائیل کے اپنے وجود کی موت کا فیصلہ ثابت ہو گی، جس سے ان پالیسیوں کے مستقبل پر پڑنے والے سنگین اثرات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قابض دشمن کے حالیہ اقدامات، بالخصوص سزائے موت کی قانون سازی اور خصوصی عدالتوں کا قیام، فلسطینی اسیران کی زندگیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور کسی بھی قانونی یا انسانی ضمانت کی عدم موجودگی میں یہ اقدامات عقوبت خانوں کے اندر ایک زیادہ خونی مرحلے کی نوید دے رہے ہیں۔
نائل البرغوثی نے ان قوانین کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی، سرکاری اور انسانی حقوق کی سطح پر فوری تحریک چلانے کی اپیل کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسیران کا مقدمہ فلسطینی جدوجہد کا بنیادی حصہ رہے گا اور طاقت کے زور پر نئے حقائق مسلط کرنے کی قابض اسرائیل کی تمام کوششیں فلسطینی عوام کے ارادوں کو توڑنے میں ناکام رہیں گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ پیر 11 مئی کی شام اسرائیلی کنیسٹ نے دوسری اور تیسری خواندگی کے دوران 93 اراکین کی بھاری اکثریت سے القسام بریگیڈز کے عسکری ونگ کے اسیران کے خلاف مقدمہ چلانے کا خصوصی قانون منظور کیا ہے۔ یہ قدم ان فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے جن پر قابض حکام طوفان اقصیٰ آپریشن میں شرکت کا الزام لگاتے ہیں۔
یہ نیا قانون القسام کے اسیران کے خلاف غیر معمولی عدالتی کارروائیوں کی راہ ہموار کرتا ہے، جس کے تحت عدالتوں کو سزائے موت سمیت انتہائی سخت سزائیں دینے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی ممکنہ تبادلہ سودے کے تحت ان کی رہائی پر بھی پابندی عائد ہو گی۔
انسانی حقوق کے اداروں اور فلسطینی اسیران کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس اسرائیلی قانون سازی کا تسلسل ہے جس کا مقصد فلسطینی قیدیوں، بالخصوص سات اکتوبر کے بعد غزہ سے تعلق رکھنے والے اسیران کو حاصل ہر قسم کے قانونی تحفظ سے محروم کرنا ہے۔ انہیں جنیوا کنونشنز کے برعکس غیر قانونی جنگجو قرار دے کر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسیران کی سزائے موت کا قانون
یہ نیا قانون کنیسٹ کی جانب سے 30 مارچ سنہ 2026ء کو اسیران کی سزائے موت کے قانون کی حتمی منظوری کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔ یہ قانون ان فلسطینی اسیران کے لیے پھانسی کی سزا تجویز کرتا ہے جن پر اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہو جائے۔
یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت نافذ کرنے کی ان اسرائیلی کوششوں کا تسلسل ہے جو سالہا سال سے جاری تھیں، تاہم غزہ پر نسل کشی کی جنگ اور اس کے ساتھ بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ لب و لہجے اور انتقامی جذبات نے اس منصوبے کو دوبارہ کنیسٹ اور حکومت کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
اسرائیلی انتہا پسند ان نئے قوانین کو فلسطینی مزاحمت کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی اسیران کے خلاف سیاسی قتل و غارت گری اور انتقامی سزاؤں کو قانونی تحفظ دینے کی جانب ایک خطرناک موڑ ہے۔
سزائے موت اور خصوصی عدالتوں کے قوانین غیر قانونی جنگجو کے قانون کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جسے قابض حکام نے غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد وسیع پیمانے پر دوبارہ فعال کر دیا ہے۔
یہ قانون، جو پہلی بار سنہ 2002ء میں منظور ہوا تھا، اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ فلسطینیوں کو کسی واضح الزام یا شفاف ٹرائل کی ضمانت کے بغیر محض سیکورٹی خطرے کے بہانے طویل عرصے تک قید میں رکھا جائے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک قابض حکام نے یہ قانون غزہ کے ان سینکڑوں زیر حراست افراد کے خلاف استعمال کیا ہے جنہیں خفیہ فوجی کیمپوں اور عقوبت خانوں میں رکھا گیا ہے۔ ان قیدیوں کو وکلاء یا خاندانوں سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں بدترین تشدد اور جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ یہ نئے قوانین کنیسٹ کے اس کردار کو پختہ کر رہے ہیں جو اسرائیلی دہشت گردی کے نظام کا حصہ ہے، جس نے فلسطینیوں کی نسل کشی، ہمہ گیر سفاکیت اور ان کے وجود و انسانی حقوق کو نشانہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


