مرکز اطلاعات فلسطین
فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا خاندان ان کی زندگی اور قسمت کے حوالے سے مسلسل سخت تشویش اور بے چینی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر حسام گذشتہ 18 ماہ سے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید ہیں جہاں سے ملنے والی شہادتیں بتاتی ہیں کہ انہیں منظم طریقے سے فاقہ کشی، طبی نگہداشت سے محرومی اور اہل خانہ سے رابطے پر پابندی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
شمالی غزہ کی پٹی میں واقع کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابو صفیہ کو دسمبر سنہ 2024ء میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے ہسپتال پر دھاوا بولنے والی قابض افواج کے سامنے خود کو اس لیے پیش کیا تاکہ صہیونی فوجیوں کو ہسپتال میں داخل ہونے، طبی عملے پر حملوں اور مریضوں کے ساتھ بدسلوکی سے روکا جا سکے۔
اسیر ڈاکٹر کے بیٹے الیاس ابو صفیہ نے بتایا کہ ان کے 52 سالہ والد جیل کے اندر انتہائی المناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاج معالجے اور بنیادی طبی حقوق سے محرومی کے باعث ان کی صحت بری طرح بگڑ چکی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی دباؤ کے بعد قابض حکام نے 90 دن کی طویل پابندی کے بعد ان کے والد کو وکیل سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ الیاس کا کہنا ہے کہ خاندان اس وقت شدید خوف کے سائے میں جی رہا ہے کیونکہ عقوبت خانے سے ان کی صحت اور رہائشی حالات کے بارے میں جو معلومات موصول ہو رہی ہیں وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ خاندان کا ہر فرد اب اپنے والد سے متعلق آنے والی ہر کال کو زندگی کی آخری کال سمجھ کر وصول کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی یہ تکلیف قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں قید دیگر ہزاروں فلسطینی اسیران کے خاندانوں کے دکھ سے الگ نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں سے آنے والی خبریں خوفناک ہیں جو اسیران کے لواحقین کی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔ خاندان کی ڈاکٹر ابو صفیہ سے گرفتاری کے بعد سے کوئی بات نہیں ہو سکی ہے اور وہ ان کی خیریت جاننے کے لیے صرف اپنے وکیل ناصر عودہ کی معلومات پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔
فلسطینی ڈاکٹر کے بیٹے نے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا کہ ان کے والد کو کسی بھی الزام کے بغیر مسلسل قید اور تشدد کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ہسپتال کے اندر زخمیوں اور بچوں کی جانیں بچانے کی کوشش کی، جبکہ پبلک پراسیکیوٹر اور قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں بھی ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے والد کے وکیل اور انسانی حقوق کی تنظیم اطباء برائے حقوق انسانی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر ابو صفیہ سمیت غزہ کی پٹی سے گرفتار کیے گئے 375 طبی اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قابض حکام انہیں غیر قانونی جنگجو کے قانون کے تحت حراست میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ کالا قانون ہے جو قابض ریاست کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام یا عام عدالتی ٹرائل کے طویل عرصے تک قید رکھ سکے۔


