مرکز اطلاعات فلسطین
لبنانی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی قلعہ شقیف پر اپنے کنٹرول کا پروپیگنڈا کر کے ایک "معنوی اور میڈیا مہم کی کامیابی” حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مقاومت کی طرف سے قابض افواج کے خلاف دکھائی جانے والی کارروائیوں کی ویڈیو فلموں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
حزب اللہ نے پیر کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے پانچ دنوں سے زائد عرصے تک يحمر الشقیف قصبے اور اس کے آس پاس کے دیہات پر شدید فضائی حملے اور توپ خانے سے بمباری کی جس کا مقصد اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنا اور قلعہ شقیف پر قبضہ کرنا تھا تاہم اسے سخت مقاومت اور شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا جس نے قصبے کے جنوبی محوروں سے اس کے غاصبانہ ہدف کو پورا نہ ہونے دیا۔
بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل کی پیادہ فوج نے ہفتے کی شام تیس مئی سنہ 2026ء کو دھویں کی آڑ میں قلعے کے مشرقی حصے سے ناہموار اور غیر مرئی راستوں کے ذریعے قلعے تک پہنچ کر کچھ تصاویر بنائیں جنہیں اسرائیلی فوج نے فوراً ہی شائع کر کے اس جگہ پر اپنے قبضے کا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
انہوں نے ذکر کیا کہ قلعہ شقیف مزاحمت کے کسی بھی عسکری وجود سے بالکل خالی تھا اور قابض دشمن کی طرف سے شائع کی جانے والی تصاویر اس علاقے پر اس کے حقیقی کنٹرول کی عکاسی نہیں کرتی ہیں۔
حزب اللہ نے تاکید کی ہے کہ اسرائیلی افواج کو گذشتہ روز فجر کے وقت سے قلعے کے اطراف میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ اس تاریخی مقام کے نیچے واقع ریسٹ ہاؤس کے قریب پھیلی ہوئی ہیں اور تنظیم کے مجاہدین ان غاصب افواج کے خلاف ایک بھرپور "استنزاف (تھکا دینے والی) جنگ” لڑ رہے ہیں۔
حزب اللہ نے اپنے بیان کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ بعد میں نشر کی جانے والی ویڈیو فلمیں جاری جھڑپوں کی اصل نوعیت اور قلعہ شقیف کے اطراف میں اسرائیلی افواج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کے حجم کو واضح طور پر بے نقاب کر دیں گی۔
گذشتہ دو مارچ سے قابض اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر وحشیانہ جارحیت شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک 3 ہزار 412 افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 10 ہزار 269 زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس سفاکیت کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد افراد زبردستی ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔
قابض اسرائیل جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں پر غاصبانہ قابض ہے جن میں سے کچھ علاقے دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں اور کچھ دوسرے علاقے سنہ 2023ء اور سنہ 2024ء کے درمیان ہونے والی گذشتہ جنگ سے اس کے زیرِ تسلط ہیں جبکہ حالیہ جارحیت کے دوران وہ جنوبی سرحدوں کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک آگے گھس آیا ہے۔


