مارچ سے اب تک قابض اسرائیلی فوج کے 586 اہلکار زخمی

0
4

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیل کے عسکری ادارے کے اندر جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کو وسعت دینے کی بڑھتی ہوئی بازگشت کے ساتھ ساتھ سامنے آنے والے اعداد و شمار حزب اللہ کے ساتھ جاری تصادم کی سنگین قیمت کو بے نقاب کر رہے ہیں، جو شمالی محاذ پر بتدریج ایک کھلی جنگ کی طرف پھسلنے کی علامت ہے۔

قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعتراف کیا ہے کہ جاری فوجی آپریشنز اور جھڑپوں کے دائرہ کار میں وسعت کے نتیجے میں گذشتہ مارچ کے آغاز سے اب تک اس کے زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 586 تک پہنچ گئی ہے۔

فوج کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہی 21 فوجی زخمی ہوئے ہیں، جو جنوبی لبنان میں میدانی جھڑپوں کی شدت میں غیر معمولی اضافے کا ثبوت ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر حملے کے آغاز اور 2 مارچ سنہ 2026ء کو لبنان میں زمینی کارروائیوں کے شروع ہونے سے اب تک کل 586 فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 37 کی حالت تشویشناک اور 82 کی درمیانی درجے کی بتائی گئی ہے، جبکہ منگل کی صبح تک یہ تعداد 565 بتائی گئی تھی۔

اسی تناظر میں قابض فوج نے جنوبی لبنان میں آپریشن شروع ہونے سے اب تک اپنے 13 فوجیوں کی ہلاکت کا بھی اعتراف کیا ہے، تاہم ان کی ہلاکت کے حالات کے بارے میں مزید تفصیلات چھپائی گئی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی محاذ پر مزید کمک روانہ کی جا رہی ہے اور پانچ فوجی ڈویژن اس وقت جاری زمینی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قابض حکومت کے اندر زمینی کارروائیوں کا دائرہ سرحدی دیہاتوں کی موجودہ لائنوں سے آگے بڑھانے کے حوالے سے بحث جاری ہے، جس میں غزہ کی پٹی جیسا جنگی اسلوب اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا مقصد شدید بمباری اور شہری ڈھانچے کی تباہی کے ذریعے نیا سکیورٹی واقع مسلط کرنا ہے۔

اس کے باوجود تل ابیب کی جانب سے فوجی نقصانات، بالخصوص حزب اللہ کے حملوں اور ایران کے ساتھ تصادم کے نتائج سے متعلق معلومات کی اشاعت پر سخت پابندیوں کے باعث آزادانہ طور پر ان اسرائیلی اعداد و شمار کی درستگی کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

دوسری طرف قابض فوج نے 2 مارچ سے لبنان پر اپنی وسیع تر جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2124 افراد شہید اور 6921 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لوگ دربدر ہو چکے ہیں۔

یہ صورتحال جنوبی لبنان کے علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے تسلسل کے دوران پیدا ہوئی ہے جن میں سے کچھ علاقے دہائیوں سے قبضے میں ہیں اور کچھ اکتوبر سنہ 2023ء سے نومبر سنہ 2024ء تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد سے، جو سکیورٹی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے مرحلے میں یہ تصادم مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔