محمود مصبح.. القسام نے عیاش میزائل داغنے والے پہلے مجاہد کی شناخت ظاہر کر دی

0
3

مرکز اطلاعات فلسطین

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے اس مجاہد کی شناخت ظاہر کی ہے جس نے پہلی بار عیاش 250 میزائل تیار کر کے اسے فائر کیا تھا۔ اس کارروائی کا اعلان گذشتہ عسکری ترجمان ابو عبیدہ نے سنہ 2021 میں معرکہ سیف القدس کے دوران کیا تھا۔

یہ انکشاف ’اقمار الطوفان‘ نامی سیریز کا حصہ ہے جس میں القسام بریگیڈز اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ ویڈیو کلپ میں شہید محمود ابراہیم مصبح کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے جو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس بریگیڈ کی آرٹلری بٹالین میں ڈپٹی گروپ کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے۔

ویڈیو میں شہید مصبح کو نہایت مہارت کے ساتھ عیاش 250 میزائل کو فائر کرنے کے لیے تیار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ابو عبیدہ نے اس معرکے کے دوران اعلان کیا تھا کہ یہ میزائل 250 کلومیٹر سے زائد کی مار صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی تباہ کن طاقت مزاحمتی ترسیل میں سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت اس میزائل سے مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں واقع رامون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شہید محمود مصبح کا سفر جو 13 دسمبر سنہ 2023 کو شہادت پر منتج ہوا صرف عیاش میزائل داغنے تک محدود نہیں تھا۔ ویڈیو میں انہیں میزائل لانچرز تیار کرتے اور بھاری مارٹر گولوں کی تربیت لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ غزہ میں گذشتہ جنگ کے دوران یہودی بستیوں پر میزائلوں کی بوچھاڑ کرنے کے لیے لانچرز تیار کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔

اس ویڈیو کلپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع ردعمل کو جنم دیا ہے۔ صحافی محمد ہنیہ نے نشاندہی کی ہے کہ غزہ کے ذہین نوجوانوں نے محاصرے کے اس تنگ حصار میں یہ معجزہ کر دکھایا ہے جہاں قابض دشمن ہوا تک کے گزرنے پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس عقل نے جو کچھ بنایا اور پیش کیا اس کے باوجود پوری دنیا کی طرف سے اسے بے بسی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی تناظر میں مقامی نیوز اکاؤنٹس نے ابو عبیدہ کے اس میزائل کے بارے میں اعلان کرنے والی ویڈیو کو دوبارہ نشر کیا ہے تاکہ اس عظیم کارروائی کو اس کے حقیقی خالق سے جوڑا جا سکے۔

دوسری جانب سماجی کارکن محمود الشریف نے غزہ جیسے تنگ علاقے میں بیلسٹک میزائل جیسے ہتھیار تیار کرنے اور اسے فائر کرنے کی صلاحیت پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے دشمن کی سکیورٹی کو چکمہ دے کر ناممکن کو ممکن کر دکھانے والے بہادروں کا کارنامہ قرار دیا۔

بلاگر رافت نبہان نے تمام تبصروں کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مزاحمت ہمیشہ قائم رہنے کے لیے وجود میں آئی ہے اور اس کے مجاہدین تمام تر سازشوں اور نسل کشی کی جنگ کے باوجود اپنی زمین پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

اس میزائل کو چلانے کا حکم القسام بریگیڈز کے سابق کمانڈر انچیف شہید محمد الضیف نے سنہ 2021 کی جنگ کے دوران دیا تھا۔ یہ اس وقت حماس کے میزائل نظام کا جدید ترین ہتھیار تھا اور اس کا نام شہید انجینئر یحییٰ عیاش سے منسوب ہے جو القسام بریگیڈز کے نمایاں ترین کمانڈروں میں سے ایک تھے جنہیں قابض اسرائیل نے سنہ 1995 میں شہید کیا تھا۔