مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت میں تیزی، نابلس میں بچہ شہید، انہدام، زمینوں کی پامالی اور نوٹسز جاری

0
10

مرکزاطلاعات فلسطین

مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں جمعرات کے روز قابض اسرائیلی فوج نے میدانی کارروائیوں کا ایک سلسلہ جاری رکھا جس میں فائرنگ، چھاپے، تنصیبات کا انہدام اور زرعی اراضی کی پامالی کے ساتھ ساتھ تعمیرات روکنے کے نوٹسز بھی شامل تھے۔

نابلس میں ایک فلسطینی بچہ قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے اس وقت شہید ہو گیا جب صہیونی فوج کئی گھنٹوں پر محیط چھاپہ مار کارروائی اور جارحیت کے بعد شہر سے نکل رہی تھی؛ اس کارروائی کے دوران متعدد شہریوں کو میدانی تحقیقات کے نام پر ہراساں بھی کیا گیا۔

نابلس تخصصي ہسپتال کے طبی ذرائع نے نابلس شہر کے مغرب میں واقع قصبے بیت وزن کے رہائشی 15 سالہ بچے یوسف سامح اشتیہ کی شہادت کا اعلان کیا جو قابض فوج کی گولیوں سے لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔

طبی ذرائع نے گذشتہ لمحات میں بتایا تھا کہ شہر کے مغربی قصبے بیت وزن میں موجودگی کے دوران ایک لڑکا کندھے پر گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے نجی گاڑی کے ذریعے نابلس تخصصي ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

قابض افواج نے صبح کے وقت نابلس پر دھاوا بولا تھا اور رفيديا محلے میں ایک عمارت پر چھاپہ مار کر متعدد شہریوں سے میدانی تحقیقات کی تھیں جس کے بعد واپسی کے وقت اندھادھند فائرنگ کی گئی۔

بیت لحم میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق قابض افواج نے شہر کے شمال مغرب میں واقع گاؤں الولجہ میں شہری ولید عطا رباح کا ایک زرعی کمرہ بغیر اجازت تعمیر کے بہانے مسمار کر دیا۔

شمالی اغوار میں قابض اسرائیل کے بلڈوزروں نے طوباس کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں عاطوف میں پانی کی فراہمی کے زرعی نیٹ ورک اور پائپ لائنیں تباہ کر دیں جس کی وجہ سے سینکڑوں دونم اراضی کو پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔

طوباس میں اغوار کے امور کے ذمہ دار معتز بشارات نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے جاری مسماری کی کارروائیوں کے نتیجے میں عاطوف اور سہل البقيعہ کے علاقوں میں تقریباً 12 ہزار دونم زمین کو پانی کی فراہمی بند ہو چکی ہے، جو کہ ایک فوجی سڑک کی تعمیر اور فاصلاتی دیوار کھڑی کرنے کے صہیونی منصوبے کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ جسے قابض اسرائیل نے نومبر سنہ 2025ء کے آخر میں الخيط القرمزی کے نام سے شروع کیا تھا، شہریوں کی 1042 دونم سے زائد زمین کو نشانہ بناتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں دونم اراضی دیوار کے پیچھے الگ تھلگ ہو جائے گی۔

الخلیل میں قابض افواج نے یطا کے مشرق میں واقع علاقے الديرات میں سات مکانات اور بھیڑوں کے ایک باڑے کی تعمیر اور کام روکنے کے نوٹسز جاری کیے۔ انسانی حقوق کے کارکن اسامہ مخامرہ نے بتایا کہ ان نوٹسز کی زد میں علی محمد عطیہ مسعف، سلیمان اور محمد العدرہ سمیت کئی شہریوں کے مکانات آئے ہیں جن کا رقبہ 100 سے 150 مربع میٹر کے درمیان ہے۔

یہ تمام اقدامات مغربی کنارے میں جاری اس مسلسل صہیونی تصادم اور جارحیت کا حصہ ہیں جس میں روزانہ کے چھاپوں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے، زرعی املاک اور رہائشی مکانات کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کو وسعت دی جا سکے۔