مرکزاطلاعات فلسطین
عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی وحشیانہ نسل کشی کے نتیجے میں بگڑتی ہوئی طبی اور انسانی صورتحال کے درمیان غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے ہاں موذی جانوروں اور حشرات الارض سے وابستہ 17 ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
عالمی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں موجود مایوس کن اور سنگین حالات بحالی کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جبکہ بیان میں خاندانوں کے درمیان وبائی امراض کی شرح میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ شعبہ صحت اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری سامان اور آلات سے محروم ہے۔
ادارے نے صرف شعبہ صحت کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر لگایا ہے اور واضح کیا ہے کہ 1800 سے زائد طبی مراکز جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال جیسے بڑے ہسپتالوں سے لے کر بنیادی نگہداشت کے چھوٹے مراکز، کلینک، فارمیسیاں اور لیبارٹریاں شامل ہیں۔
دو سالہ نسل کشی کی جنگ کے بعد اگرچہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو غزہ میں سیز فائر کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا لیکن اس کے باوجود 24 لاکھ فلسطینیوں کی معاشی اور طبی زندگی تاحال ابتر ہے، جن میں 1.4 ملین بے گھر افراد شامل ہیں جن کے مصائب کی بنیادی وجہ قابض اسرائیل کا اپنی ذمہ داریوں سے صریح انحراف، راہداریوں کی مسلسل بندش اور خوراک، امداد، طبی سامان اور پناہ گاہوں کے سامان کی طے شدہ مقدار فراہم نہ کرنا ہے۔
امریکی پشت پناہی کے ساتھ 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی اس صہیونی نسل کشی نے اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد کو زخمی کر دیا ہے جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ اس سفاکیت نے 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ادارے کی نئی نمائندہ رینہیلد فان ڈی ویردت نے اپنے پہلے دورہ غزہ کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود تباہی کی ہولناکی اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی چیز آپ کو اس کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں کر سکتی۔
ڈی ویردت نے مزید کہا کہ محض رپورٹس اور اعداد و شمار پڑھنا کافی نہیں ہے کیونکہ سڑکوں پر کئی میٹر بلند ملبے کے ڈھیروں کے بیچ کھڑے ہو کر تباہی کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ بالکل مختلف اور لرزہ خیز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال کے آغاز سے اب تک بے گھروں میں موذی جانوروں اور حشرات الارض سے متعلق 17 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ رہائشی صورتحال کی انتہائی ابتری کے باعث 80 فیصد سے زائد پناہ گاہوں میں خارش، جوئیں اور کھٹمل جیسی جلدی بیماریوں کی اطلاع ملی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی ادارے اور اس کے شراکت داروں کو پھیلنے والی بیماریوں کی نوعیت سمجھنے کے لیے لیبارٹری کے آلات اور سامان کی اشد ضرورت ہے لیکن قابض اسرائیل کے مسلط کردہ محاصرے کے باعث ان اشیاء کو غزہ کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے صورتحال کی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طبی عملے کا تحفظ، ادویات اور بنیادی سامان کی فراہمی اور ان پر عائد تمام تر ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
نسل کشی کی اس طویل جنگ کے دوران قابض اسرائیل نے دانستہ طور پر شعبہ صحت، ہسپتالوں، طبی مراکز اور عملے کو نشانہ بنایا ہے جس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی اور طبی سہولیات کا جنازہ نکل گیا۔
اسی تناظر میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے مائن ایکشن سروس کے سربراہ جولیوس دیرک فان دیر والت نے ملبے کے اندر موجود غیر پھٹنے والے بارودی مواد کے مسلسل خطرے سے خبردار کیا ہے جو کہ اب ملبے کی تہوں میں دب چکے ہیں۔
فان دیر والت نے کہا کہ غزہ میں بارودی مواد کی آلودگی کی گہرائی کو سمجھنے کے حوالے سے ہم نے ابھی صرف سطح کو چھوا ہے، اور یہ خطرہ فلسطینیوں کی اپنے گھروں اور زمینوں پر واپسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو بحالی کی تمام تر کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غزہ میں آبادی کی گنجانی بارودی مواد ہٹانے کے کام میں ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ جنگ سے پہلے یہاں ہر مربع کلومیٹر پر 6 ہزار نفوس آباد تھے جبکہ شام میں یہ تعداد 120 تھی، اور اب جنگ کے بعد محدود رہائشی علاقوں میں یہ کثافت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان بارودی مواد سے نمٹنا ایک روزمرہ کی ہنگامی صورتحال بن چکا ہے جس کے لیے 541 ملین ڈالر کے فنڈز درکار ہیں، تاہم اس پر عمل درآمد کا انحصار اجازت ناموں اور مطلوبہ آلات تک رسائی پر ہے۔
نسل کشی کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر 2 لاکھ ٹن سے زائد بارودی مواد برسایا ہے جس میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیار اور ہزاروں پاؤنڈ وزنی بم بھی شامل ہیں، جیسا کہ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں۔


