پاسپورٹ کے حصول سے محرومی فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب: بین الاقوامی فیڈریشن

0
4

مرکزاطلاعات فلسطین

انٹرنیشنل فیڈریشن فار رائٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (IFRD) نے ان متواتر رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی حکومت مصر میں مقیم بے گھر فلسطینی شہریوں کے پاسپورٹ جاری کرنے یا ان کی تجدید کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ ایک منظم طریقہ کار کا حصہ ہے جس کے تحت نقل و حرکت کے بنیادی حق کو سیاسی چھانٹی اور اجتماعی سزا کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

فیڈریشن نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدامات انتہائی کمزور طبقات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں وہ زخمی اور مریض بھی شامل ہیں جو جنگ کی ہولناکیوں سے بچ کر علاج کی غرض سے نکلے تھے، لیکن اب وہ خود کو ایک قانونی اور انسانی بے یقینی کی صورتحال میں پھنسا ہوا پا رہے ہیں اور ایسی دستاویزات سے محروم کر دیے گئے ہیں جو انہیں نقل و حرکت یا علاج مکمل کرنے کی اجازت دے سکیں۔

اس تناظر میں بیان میں 57 سالہ شہری احمد ابو خضیر کی مثال دی گئی ہے جنہوں نے اپریل سنہ 2024ء میں غزہ کی پٹی سے بطور ایمبولینس ڈرائیور کام کے دوران زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے ہجرت کی تھی۔ ستمبر کے مہینے میں انہوں نے قاہرہ میں فلسطینی سفارت خانے میں پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست دی، لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی اور ان کا پاسپورٹ قبضے میں لے لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سفارت خانے کے اندر ایک نام نہاد سکیورٹی آفس میں تفتیش کا نشانہ بنایا گیا، جہاں ان کا فون تلاشی کے لیے لیا گیا اور ان کے نظریات و تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد تفتیش کار نے یہ کہہ کر پاسپورٹ دینے سے انکار کر دیا کہ دہشت گردوں کو پاسپورٹ نہیں مل سکتے۔

بیان میں ایک اور شہری 30 سالہ محمد قندیل کی گواہی بھی شامل کی گئی ہے جو جنگ کے دوران اپنی زخمی اہلیہ کے ہمراہ اس امید پر غزہ سے نکلے تھے کہ مصر سے باہر ان کا علاج مکمل کرا سکیں گے۔ انہوں نے مئی سنہ 2024ء میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے درخواست دی تھی، لیکن جب ان کا نام تیار شدہ پاسپورٹ کی فہرست میں آیا تو انہیں یہ دیکھ کر صدمہ ہوا کہ ان کے نام کے آگے منسوخ لکھا ہوا تھا۔ رجوع کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ سکیورٹی کمیٹی نے بغیر کسی وجہ کے ان کا پاسپورٹ واپس لے لیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے ان کی اہلیہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکیں کیونکہ وہ اپنے شوہر کے بغیر نہیں جا سکتیں، جس سے ان کی صحت مزید بگڑ گئی اور وہ نقل و حرکت کی آزادی سے وابستہ دیگر بنیادی حقوق سے بھی محروم ہو گئے۔

تنظیم کا ماننا ہے کہ یہ واقعات انتظامی من مانی اور قانونی ضمانتوں کی عدم موجودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم نے زور دے کر کہا ہے کہ شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی عہد نامہ، جس میں ریاست فلسطین بھی شامل ہے، آرٹیکل 12 کے تحت ہر فرد کو اپنے ملک سمیت کسی بھی ملک سے نکلنے کے حق کی واضح ضمانت دیتا ہے۔

بیان میں انسانی اور شہری درخواستوں کی جانچ کے لیے نام نہاد سکیورٹی کمیٹیوں کے استعمال کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں نہ تو شفافیت ہے اور نہ ہی اپیل کا کوئی راستہ۔ تنظیم کے مطابق یہ انتظامی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس کے نتیجے میں صحت، کام اور تحفظ جیسے باہم جڑے ہوئے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔

فیڈریشن نے فلسطینی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے پاسپورٹ فوری طور پر واپس کریں، بغیر کسی تاخیر کے ان کی تجدید کریں اور قونصلر خدمات کی فراہمی کے لیے غزہ میں کسی کی سابقہ پیشہ ورانہ وابستگی یا سیاسی وابستگی کو معیار بنانا بند کریں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی کمیٹی کو کیسز بھیجنے کا طریقہ کار بھی ختم کیا جائے کیونکہ اس کی کوئی واضح قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔

تنظیم نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کی نگرانی جاری رکھے گی اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے فورمز پر کام کرے گی تاکہ انتظامی طریقہ کار کو جنگ اور ہجرت کے متاثرین پر دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔