کیلیفورنیا میں اسرائیلی قونصل کے خطاب کے دوران احتجاج، عالمی تنہائی میں اضافہ

0
4

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیل کو حاصل عالمی حمایت میں دراڑیں اور اسے ملنے والی تنقید کے مظاہر مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس میں بیرون ملک مقیم یہودی اور اسرائیلی حلقے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ سیاسی اور عسکری تناؤ کے اس ماحول میں امریکہ کی ایک ریاست میں اسرائیلی کمیونٹی کی ایک سرکاری تقریب کے دوران شدید احتجاج دیکھا گیا۔

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے امریکہ میں مقیم نامہ نگار نے رپورٹ دی ہے کہ شمال مغربی امریکہ میں متعین اسرائیلی قونصل مارکو سیرمونٹی نے ریاست کیلیفورنیا کی سلیکون ویلی میں نام نہاد "یادگارِ مقتولینِ جنگِ اسرائیل” کی ایک تقریب میں شرکت کے دوران ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔

’رپورٹ‘ کے مطابق سیرمونٹی نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ قابض فوج اور ریاست پر کی جانے والی اندرونی تنقید دنیا بھر کے یہودیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے ناقدین پر الزام لگایا کہ وہ ذاتی مفادات یا انتخابی ووٹوں کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، جس پر حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے سخت ردعمل دیا اور ان کے خطاب کو سیاسی اور جماعتی قرار دے کر مسترد کر دیا۔

پالو آلٹو شہر کے ایک یہودی مرکز میں منعقدہ اس تقریب کے دوران شرکاء نے قونصل کے خطاب کو احتجاجی نعروں سے منقطع کر دیا۔ حاضرین نے "عار” اور "شرمندگی” جیسے نعرے بلند کیے، جبکہ بعض نے ان کی تقریر کے دوران ہی اسرائیلی ترانہ گانا شروع کر دیا، تاہم قونصل نے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی گفتگو جاری رکھی۔

اس تقریب میں سینکڑوں اسرائیلیوں اور یہودیوں نے شرکت کی تھی جن میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔ اگرچہ تقریب میں نغمے اور اشعار شامل تھے، لیکن قونصل کے خطاب کے مواد نے حاضرین کو تقسیم کر دیا کیونکہ انہوں نے مقتولین کی یاد پر توجہ دینے کے بجائے ایران کے ساتھ جنگ اور قابض حکومت کے مخالفین پر تنقید کو اپنا موضوع بنایا۔

رپورٹ کے مطابق قونصل نے جنگ میں قابض حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی اور ایسی زبان استعمال کی جسے جنگ کو ہمیشہ جاری رکھنے کا رجحان قرار دیا گیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تصادم کا موازنہ ہولوکاسٹ کے اسباق سے کیا اور دعویٰ کیا کہ قابض اسرائیل اور امریکہ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو آزاد دنیا کی نمائندگی کرتی ہے، ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہال کے اندر تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب قونصل نے اسرائیلی اور یہودی مخالفین پر تنقید جاری رکھی، جس پر کچھ حاضرین نے انہیں اسٹیج سے نیچے اترنے کا کہا۔ قونصل نے اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج پر الزامات عائد کرنا ریاست کی تصویر مسخ کرنے کو جواز فراہم کرتا ہے اور یہودیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

سیرمونٹی نے اپنے خطاب کے اختتام پر مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کو تنہا کرنے کی کوششوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں اور ذاتی مفادات کو قوم کے مستقبل پر ترجیح دینے سے خبردار کیا، جس پر ہال میں مزید احتجاجی نعرے گونجنے لگے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ چند محدود شرکاء کی کارستانی تھی جنہوں نے جان بوجھ کر تقریب میں خلل ڈالا، وزارت نے اسے یادگاری تقریب کی بے حرمتی قرار دیا۔