یہودی آباد کاروں کی ملیشیا نے شہید کی یادگار کو منہدم کر دیا، الخلیل اور نابلس پر دھاوا

0
5

مرکز اطلاعات فلسطین

غاصب یہودی آباد کاروں کے مسلح جتھوں نے گذشتہ رات اور آج اتوار کی صبح قابض اسرائیل کی فوج کی مکمل سرپرستی اور تحفظ میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں معصوم فلسطینیوں، پرامن دیہاتوں، قصبوں اور ان کی املاک کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھیں۔

الخلیل کے جنوب میں، مسافر یطا کے ام الخير گاؤں میں سفاک یہودی آباد کاروں نے مسلسل پانچویں مرتبہ شیخ شہید سلیمان الہذالین کی یادگار کو مسمار کر کے اپنی شدید نفرت اور سفاکیت کا ثبوت دیا۔

نابلس گورنری میں، غاصب یہودی آباد کاروں نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع عورتا گاؤں پر دھاوا بول کر نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھائے۔

جہاں تک الخلیل شہر کا تعلق ہے، تو وہاں قابض اسرائیل کی فوج کی سخت سکیورٹی اور پہرے میں یہودی آباد کاروں نے قدیم شہر پر دھاوا بولا۔ یہ ایک اشتعال انگیز قدم ہے جو روزانہ کی بنیاد پر دہرایا جاتا ہے، جس کا مقصد معصوم فلسطینی شہریوں کو تنگ کرنا اور اس علاقے کے داخلی راستوں اور بازاروں کو زبردستی بند کرنا ہے۔

یہ بہیمانہ حملے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری قابض دشمن کی اس جارحیت کا حصہ ہیں جس کے تحت فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے ساتھ ہی فلسطینی شہروں اور قصبوں پر قابض فوج کے فوجی چھاپے بھی مسلسل جاری ہیں۔

اس سنگین نسل کشی کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے میں غاصب قابض اسرائیل اور اس کے فاشسٹ یہودی آباد کاروں کو نشانہ بنانے، عوامی مقاومت کو بڑھانے اور تصادم کو تیز کرنے کے لیے فلسطینیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر پکار بلند کی گئی ہے۔