غزہ میں فضلے کو ٹھکانے لگانے کے نظام کی تباہی اور ماحولیاتی المیے میں شدت کے حوالے سے سنگین انتباہ

0
3

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ میں خان یونس، رفح اور وسطی گورنریوں میں ٹھوس فضلے کے انتظام کی مشترکہ سروس کونسل کے سربراہ احمد الصوفی نے غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ اور اہم ترین لینڈ فل سائٹس (کچرا ٹھکانے لگانے کے مقامات) کی بندش کے نتیجے میں فضلے کے انتظام کے نظام کے مکمل طور پر بیٹھ جانے کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے۔

احمد الصوفی نے آج بروز جمعرات وسطی غزہ میں دیر البلح کے جنوب میں واقع البرکہ لینڈ فل کے قریب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران اب انسانی حدود سے تجاوز کر کے ایک تیزی سے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اور صحت کے المیے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گلیوں میں کچرے کے ڈھیر لگنے اور سائنسی و طبی بنیادوں پر بنے لینڈ فلز تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی اور لاکھوں پناہ گزینوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ الفخاری لینڈ فل کی بندش، جو جنوبی اور وسطی غزہ میں فضلہ ٹھکانے لگانے کی سب سے بڑی سہولت ہے، رہائشی علاقوں اور پناہ گزینوں کے خیموں کے قریب کچرے کے غیر قانونی ڈھیروں میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ یہ صورتحال قابض اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ فوجی پابندیوں کی وجہ سے مزید ابتر ہو گئی ہے، کیونکہ بہت سے علاقے اب رسائی سے باہر ہو چکے ہیں۔

احمد الصوفی نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے باعث بنیادی آپریشنل مواد جیسے ایندھن، تیل اور اسپیئر پارٹس کی آمد پر مسلسل پابندی نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس وجہ سے کچرا جمع کرنے والی بیشتر گاڑیاں اور مشینری خراب ہو چکی ہے، جس سے صحت اور ماحولیات کے خطرات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن کی جانب سے کیڑے مار ادویات اور چوہوں کو مارنے والے مواد کی روک تھام نے کچرے کے ڈھیروں میں ان کی افزائش کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ یہ صورتحال غیر معمولی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات غزہ کی پٹی کی حدود سے بھی باہر تک پھیل سکتے ہیں۔

الصوفی نے عالمی برادری سے اس سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی اور مطالبہ کیا کہ الفخاری لینڈ فل تک جانے والے راستے فوری طور پر کھولے جائیں اور بلدیات کو ضروری آپریشنل سامان فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے ایک فوری ماحولیاتی رسپانس پلان شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا جسے مالی اور تکنیکی مدد حاصل ہو، تاکہ بلدیات اور سروس کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں اور نظام کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلدیات انتہائی تباہ کن حالات میں کام کر رہی ہیں، جبکہ مشترکہ سروس کونسل کے اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک خان یونس اور وسطی علاقوں میں تقریبا دس لاکھ کیوبک میٹر ٹھوس فضلہ جمع ہو چکا ہے، جبکہ عملہ روزانہ صرف 1400 کیوبک میٹر کچرا ہی جمع کر پاتا ہے۔

غزہ کی پٹی ان دنوں قابض اسرائیل کی سفاکیت اور مشکل انسانی حالات کی وجہ سے تیزی سے ماحولیاتی انحطاط کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں حشرات اور چوہوں کی کثرت ہو گئی ہے اور بیماریاں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں، وبائی صورت اختیار کر رہی ہیں۔