
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’ حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی اسیران اس وقت اپنی تاریخ کے خطرناک ترین مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ہمارے بھائیوں کو بدترین جسمانی و نفسیاتی تشدد، وحشیانہ بھوک اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسیران کو سزائے موت دینے کے ظالمانہ قانون کی منظوری کے نتائج انتہائی بھیانک ہوں گے۔
یوم اسیران فلسطین کی مناسبت سے غزہ شہر میں منعقدہ ایک یکجہتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حازم قاسم نے پختہ عزم ظاہر کیا کہ غزہ کی پٹی کو جس مرضی نسل کشی، تباہی اور فاقہ کشی کا نشانہ بنا لیا جائے یہ علاقہ ہمیشہ قومی جدوجہد کے قلب میں رہے گا۔ غزہ اپنے منصفانہ مقاصد اور بالخصوص اسیران کے مقدمے کے دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
حازم قاسم نے اس ہولناک حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ گذشتہ دہائیوں کے دوران اب تک لگ بھگ دس لاکھ فلسطینی قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید کیے جا چکے ہیں، تاہم موجودہ دور سب سے زیادہ سنگین ہے۔ حالیہ صہیونی پالیسیاں جن میں سزائے موت کے قانون کی منظوری اور جیلوں کے اندر وحشیانہ انتقامی کارروائیوں میں اضافہ شامل ہے، براہ راست اسیران کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ غزہ، مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور بیرون ملک مقیم تمام فلسطینی اپنی عوامی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریک میں تیزی لائیں تاکہ قابض اسرائیل پر موثر دباؤ ڈالا جا سکے اور اسے اسیران کے خلاف جاری جرائم بند کرنے اور سزائے موت کے قانون کو منسوخ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں ہونے والا یہ یکجہتی اجتماع جس میں تمام مزاحمتی دھڑوں، قبائل اور سول سوسائٹی کے اداروں نے شرکت کی، بے پناہ دکھوں کے باوجود ہماری قومی وحدت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک فعال سرکاری فلسطینی حکمت عملی کے ذریعے اسیران کے معاملے کو عالمی سطح پر زندہ رکھا جائے۔
حازم قاسم نے فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیران کی تنخواہوں کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل جیلوں میں اسیران کو بھوکا رکھنے کے بعد اب ان کے خاندانوں کو فاقہ کشی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے اسیران کے اہل خانہ کی تنخواہوں کی بحالی کے ذریعے ان کی استقامت کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
حماس کے ترجمان نے واضح کیا کہ غزہ کی مزاحمت نے اسیران کے کاز کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، بالخصوص تبادلے کے معاہدوں اور معرکہ طوفان الاقصیٰ کے دوران اسیران کی رہائی کے لیے بے مثال جدوجہد کی گئی۔ انہوں نے دیگر تمام محاذوں پر بھی مزاحمتی عمل اور دباؤ جاری رکھنے کی دعوت دی تاکہ تمام اسیران کی جلد از جلد رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

