
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ شہر کے مشرقی حصے میں جمعہ کی علی الصبح قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ کے نتیجے میں دو بھائی جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ تیسرا زخمی ہو گیا، جس سے غاصب قابض فوج کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ مزید دراز ہو گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ جبالیا النزلہ کے رہائشی دو بھائی محمود اور عید ابو وردہ اس وقت شہید اور ان کا تیسرا بھائی زخمی ہوا جب قابض اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ شجاعیہ میں پانی صاف کرنے والے ایک پلانٹ (محطہ تحلية مياه) کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق دونوں شہداء پانی کے ٹینکر پر کام کرتے تھے اور قابض دشمن نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پانی بھرنے کے لیے جا رہے تھے۔
اسی دوران قابض اسرائیل کی توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں اور غزہ شہر کے مشرقی حصوں پر گولہ باری کی۔
علاوہ ازیں قابض دشمن کی عسکری گاڑیوں نے غزہ کی پٹی کے مشرقی اور شمالی حصوں میں متعدد مقامات پر دوبارہ فائرنگ کی۔
گذشتہ جمعرات کی شام میدانی ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون اور جنوبی شہر خان یونس میں قابض اسرائیلی افواج کی گولیوں کا نشانہ بن کر ایک بچے سمیت دو شہری شہید ہو گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ محلہ زیتون کے شارع کشکو میں فائرنگ کے نتیجے میں بچہ صالح بدوی شہید جبکہ دیگر متعدد افراد زخمی ہوئے۔
خان یونس میں 38 سالہ محسن عودہ محسن الدباری اس وقت شہید ہوئے جب شہر کے جنوب میں واقع ارض اللیمون کے علاقے میں قابض فوج نے ان پر گولیاں برسائیں۔
اس سے قبل اسی روز 33 سالہ شہری رزق الملاحی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، وہ چند روز قبل غزہ شہر کے شارع النفق پر پولیس کی گاڑی پر ہونے والی قابض اسرائیل کی بمباری میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری، نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے سمیت سامان، امداد اور سفر پر پابندیاں برقرار رکھ کر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے سیز فائر کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 771 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2147 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 760 شہداء کے اجسادِ خاکی ملبے سے نکالے گئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین جارحیت اور نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد اب تک تقریباً 72,360 اور زخمیوں کی تعداد 172,250 ہو چکی ہے، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جنگ کی بھاری انسانی قیمت کا واضح ثبوت ہے۔


