1٭اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نکات٭

0
11

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جمعرات کی آدھی رات سے نافذ العمل ہو گیا ہے، جسے کشیدگی کو روکنے اور امریکی سرپرستی میں مذاکراتی عمل کے لیے راستہ کھولنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ابتدائی طور پر 10 دن کے لیے ہے۔

معاہدے کے چھ نکات درج ذیل ہیں:

1- جنگ بندی کا آغاز
امریکی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق، پہلے نکتے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق 16 اپریل سے ہوگا، جسے اسرائیلی جانب سے ‘خیر سگالی کے جذبے’ کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ فریقین کے درمیان مستقل سلامتی اور امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

2- جنگ بندی میں توسیع سیاسی پیش رفت سے مشروط
دوسرا نکتہ جنگ بندی میں توسیع کا دروازہ کھولتا ہے، لیکن اسے مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت اور لبنان کی پوری سرزمین پر حکومتی رٹ قائم کرنے کی صلاحیت سے مشروط کیا گیا ہے۔

3- فوجی پابندیاں اور دفاع کا حق
معاہدہ اسرائیل کو کسی بھی حملے کی صورت میں دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق دیتا ہے، جس کے بدلے میں وہ لبنانی حدود میں زمینی، فضائی یا سمندری راستے سے کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا پابند ہوگا۔

4- لبنان کی ذمہ داریاں
اس کے برعکس، معاہدہ لبنانی حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ حزب اللہ اور تمام مسلح گروہوں کو اسرائیلی اہداف کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے یا ‘دشمن’ سرگرمیوں سے روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

5- اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہونا
پانچواں نکتہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ لبنانی فوج ہی ملک کی خودمختاری اور دفاع کی واحد ذمہ دار ہوگی، اور اس فریم ورک میں کسی بھی دوسری قوت کے متوازی(Parallel) کردار کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

6- امریکی سرپرستی میں مذاکرات
چھٹا اور آخری نکتہ یہ ہے کہ لبنان، اسرائیل اور امریکہ براہ راست مذاکرات جاری رکھیں گے تاکہ حل طلب مسائل کو حل کیا جا سکے، جن میں سرفہرست بین الاقوامی زمینی سرحدوں کا تعین ہے، تاکہ ایک جامع معاہدہ طے پا سکے جو دونوں ممالک کے درمیان سلامتی، استحکام اور مستقل امن کی ضمانت دے۔

الجزيرة نیٹ 17/4/2026 2
فلسطینی اتھارٹی نے ہشام حرب کو فرانس کے حوالے کر دیا

فلسطینی اتھارٹی نے جمعرات کے روز فلسطینی شہری محمود العدرا، جو ہشام حرب کے نام سے معروف ہیں، کو فرانسیسی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ ان پر تقریباً 43 سال قبل پیرس میں ایک حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

فرانس ہشام حرب اور دیگر فلسطینیوں پر 1982 میں پیرس کے وسط میں واقع یہودی محلے کے ایک ریسٹورنٹ پر مسلح حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے، جس میں 6 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔ فرانس 2015 سے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ آزاد ہیومن رائٹس کمیشن کے وکیل عمار دویک نے کہا: "آج ہشام حرب کے اہل خانہ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ انہیں فرانسیسی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے”۔ رام اللہ میں الجزیرہ کی نامہ نگار جيفارا البديري نے آج سہ پہر اطلاع دی کہ خاندان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ حرب کو اردن منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں فرانس کے حوالے کیا جائے گا۔

ہشام حرب کون ہیں؟
وہ 72 سالہ ریٹائرڈ فلسطینی کرنل ہیں، اور چار دہائیاں قبل جب یہ کارروائی ہوئی تھی، وہ یاسر عرفات کی ‘فتح-انقلابی کونسل’وابستہ تھے جو 1974 میں قائم ہوئی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے مسلح جدوجہد ترک کر دی تھی اور متعدد عرب ممالک میں مقیم رہے۔ وہ جولائی 1994 میں یاسر عرفات کے ہمراہ غزہ واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی 13 ستمبر 1993 کو اوسلو معاہدے کے بعد سینکڑوں دیگر افراد کی طرح ان کی حیثیت کی بحالی کے طریقہ کار کے تحت عمل میں آئی تھی۔ مغربی کنارے میں اپنے خاندان کے ہمراہ منتقلی کے بعد، حرب نے رام اللہ میں جنرل انٹیلی جنس سروس میں شمولیت اختیار کی اور وہاں سے کرنل کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔

الجزيرة نیٹ 16/4/2026 3
گولان میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو فروغ دینے اور ‘کتسرین’ کو ‘شہر’ میں تبدیل کرنے کے لیے 33 کروڑ ڈالر کا اسرائیلی منصوبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیلی حکومت نے بدھ کی رات مقبوضہ شامی گولان میں بستیوں کی توسیع کے لیے ایک پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی ہے، جس میں تقریباً ایک ارب شیکل( 33کروڑ ڈالر سے زیادہ) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس منصوبے میں ہزاروں نئے آباد کاروں کی آمد اور ‘کتسرین’ نامی بستی کو اس علاقے کے ‘پہلے شہر’ میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ یہ اقدام گولان میں صہیونی کنٹرول کو مضبوط بنانے کا اگل مرحلہ ہے۔

‘تنوفا ڈائریکٹوریٹ’ (صہیونی ترقیاتی ادارہ) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 2026 اور 2030 کے درمیان چلے گا، جس کا مقصد تقریباً 3000 نئے خاندانوں کو آباد کرنا ہے۔ ان میں سے 1500 خاندان ‘کتسرین’ بستی میں اور باقی 1500 دیگر بستیوں میں آباد کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ پراجیکٹس، انفراسٹرکچر کی توسیع اور ان شعبوں کو فروغ دیا جائے گا جنہیں اسرائیل ‘نمو کے محرکات’ قرار دیتا ہے۔

اس منصوبے میں مقبوضہ گولان میں آبادکاری کے حکام کے لیے تقریباً 70 ملین شیکل مالیت کی مراعات کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ مزید برآں، وسیع تر تعمیراتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا، جن میں ‘کتسرین’ میں نئے محلوں کی ترقی کی تکمیل اور آبادکاری کی توسیع کی خاطر فوجی علاقوں کو خالی کرانے پر کام کرنا شامل ہے۔

منصوبے میں صنعت، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں 200 ملین شیکل سے زائد کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جس میں ‘سیاحتی مقامات’ پر قبضہ و ترقی اور صنعتی علاقوں کا قیام شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘اکیڈمک اور تحقیقی منصوبوں’ کے لیے تقریباً 110 ملین شیکل مختص کیے گئے ہیں، جن میں تعلیمی سرگرمیوں کی توسیع، ریسرچ اینڈ انوویشن سینٹرز کا قیام اور ویٹرنری طبی سہولیات شامل ہیں۔

عرب 48، 16/4/2026

4

سابق اسرائیلی عہدیدار: واشنگٹن خطے کے فوجی اڈے ‘اسرائیل’ منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی قابض فوج کے سابق ترجمان اوی بینیاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکی حکام خطے کے ممالک سے اپنے متعدد فوجی اور فضائی اڈے اسرائیل منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

بینیاہو نے ‘ایکس’ پلیٹ فارم پر لکھا: ‘دفاعی ادارے کے سینئر حکام نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی اور امریکی افواج کے درمیان ق 3
گولان میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو فروغ دینے اور ‘کتسرین’ کو ‘شہر’ میں تبدیل کرنے کے لیے 33 کروڑ ڈالر کا اسرائیلی منصوبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیلی حکومت نے بدھ کی رات مقبوضہ شامی گولان میں بستیوں کی توسیع کے لیے ایک پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی ہے، جس میں تقریباً ایک ارب شیکل( 33کروڑ ڈالر سے زیادہ) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس منصوبے میں ہزاروں نئے آباد کاروں کی آمد اور ‘کتسرین’ نامی بستی کو اس علاقے کے ‘پہلے شہر’ میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ یہ اقدام گولان میں صہیونی کنٹرول کو مضبوط بنانے کا اگل مرحلہ ہے۔

‘تنوفا ڈائریکٹوریٹ’ (صہیونی ترقیاتی ادارہ) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 2026 اور 2030 کے درمیان چلے گا، جس کا مقصد تقریباً 3000 نئے خاندانوں کو آباد کرنا ہے۔ ان میں سے 1500 خاندان ‘کتسرین’ بستی میں اور باقی 1500 دیگر بستیوں میں آباد کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ پراجیکٹس، انفراسٹرکچر کی توسیع اور ان شعبوں کو فروغ دیا جائے گا جنہیں اسرائیل ‘نمو کے محرکات’ قرار دیتا ہے۔

اس منصوبے میں مقبوضہ گولان میں آبادکاری کے حکام کے لیے تقریباً 70 ملین شیکل مالیت کی مراعات کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ مزید برآں، وسیع تر تعمیراتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا، جن میں ‘کتسرین’ میں نئے محلوں کی ترقی کی تکمیل اور آبادکاری کی توسیع کی خاطر فوجی علاقوں کو خالی کرانے پر کام کرنا شامل ہے۔

منصوبے میں صنعت، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں 200 ملین شیکل سے زائد کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جس میں ‘سیاحتی مقامات’ پر قبضہ و ترقی اور صنعتی علاقوں کا قیام شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘اکیڈمک اور تحقیقی منصوبوں’ کے لیے تقریباً 110 ملین شیکل مختص کیے گئے ہیں، جن میں تعلیمی سرگرمیوں کی توسیع، ریسرچ اینڈ انوویشن سینٹرز کا قیام اور ویٹرنری طبی سہولیات شامل ہیں۔

عرب 48، 4

اسرائیلی عہدیدار: واشنگٹن خطے کے فوجی اڈے ‘اسرائیل’ منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی قابض فوج کے سابق ترجمان اوی بینیاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکی حکام خطے کے ممالک سے اپنے متعدد فوجی اور فضائی اڈے اسرائیل منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

بینیاہو نے ‘ایکس’ پلیٹ فارم پر لکھا: ‘دفاعی ادارے کے سینئر حکام نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی اور امریکی افواج کے درمیان قریبی تعاون کے بعد، امریکی اب خطے کے ممالک سے فوجی اور فضائی اڈے اسرائیل منتقل کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں’۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں