علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی فراہمی میں شدید کمی

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے حکام اور عالمی تنظیموں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف قابض اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی کے لیے خوراک کی فراہمی اور تجارتی سامان کی ترسیل میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

اخبار کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ موجودہ عسکری کشیدگی کے آغاز سے غزہ کی پٹی میں روزانہ داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد 60 سے زیادہ نہیں ہے جبکہ اس بحران کے پیدا ہونے سے قبل یہ تعداد یومیہ تقریباً 95 ٹرک تھی۔

غزہ کی پٹی میں سیز فائر کا معاہدہ جو 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہوا تھا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے پر مبنی تھا جس کا مقصد نسل کشی کی اس جنگ کا خاتمہ تھا۔ تاہم قابض اسرائیلی فوج نے سینکڑوں مرتبہ اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی جاری رکھی جس کے نتیجے میں غزہ میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 972 فلسطینی شہید اور 2235 زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ معاہدہ دو سال تک جاری رہنے والی اس خونریز جنگ کے بعد طے پایا تھا جو امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہوئی تھی۔ اس سفاکانہ جنگ کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار زخمی ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق قابض دشمن کی بمباری سے غزہ کی پٹی کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے بارہا قابض حکام پر معاہدے کے تحت اپنی طے شدہ ذمہ داریوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا ہے خاص طور پر ان معاملات میں جو راہداریوں کو کھولنے، غذائی و طبی امداد کی فراہمی اور پناہ گاہوں کے سامان سے متعلق تھے۔ اس معاندانہ رویے نے 24 لاکھ کی کل آبادی میں سے 19 لاکھ بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کے لیے انسانی بحران کو مزید سنگین اور المناک بنا دیا ہے۔

اخبار نے مزید اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے بنیادی سامان کی فراہمی پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں جن میں تعمیراتی مواد، ملبہ ہٹانے والی مشینری اور بعض اہم طبی سامان شامل ہے۔ عالمی تنظیموں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اصل بحران محض ٹرکوں کی تعداد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں داخلے کی اجازت پانے والے سامان کی نوعیت اور معیار بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اسی تناظر میں عالمی حکام نے اس سفارتی راستے کے تعطل پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کا مقصد امداد کے بہاؤ کو وسیع کرنا تھا کیونکہ اب غزہ کی انسانی صورتحال علاقائی فوجی کشیدگی کا یرغمال بن کر رہ گئی ہے۔ امداد میں اضافے کی بین الاقوامی کوششوں کے بعد اب اس تازہ کشیدگی کی وجہ سے سپلائی انتہائی نچلی سطح پر آگئی ہے جو بعض ادوار میں 80 فیصد تک گر گئی ہے۔

قابض حکام نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بہانے زمینی راہداریوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جس سے امداد کی ترسیل انتہائی سست ہو گئی ہے اور بعض اوقات ٹرکوں کی نقل و حرکت کو دانستہ طور پر معطل کر دیا جاتا ہے۔ اس عسکری کشیدگی نے خطے میں جہاز رانی کے راستوں اور لاجسٹک سروسز کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس سے مقبوضہ غزہ کی پٹی تک ضروری سامان کی رسائی مزید دشوار گزار ہو گئی ہے۔