نسل کشی سے بچ نکلنے والے فلسطینی بچوں کو فرانسیسی حکام نے والد سے چھین لیا

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں مقیم تین بچوں کی ماں رغدہ الشیخ ایک ایسے دہرے المیے اور سنگین انسانی سانحے کا شکار ہیں جس کا آغاز سات اکتوبر سنہ 2023ء کو قابض اسرائیل کی وحشیانہ جنگ سے ہوا تھا۔ ان کا ہنستا بستا خاندان آج غزہ کی پٹی اور فرانس کے درمیان بکھر کر رہ گیا ہے اور وہ قابض اسرائیل کی نسل کشی اور اپنوں کی جدائی کے تلخ ترین دور سے گزر رہی ہیں۔

جنگ کے بالکل آغاز میں ان کے شوہر احمد اور تینوں معصوم بچے 11 سالہ ربحی، 10 سالہ نور اور 8 سالہ حسام الدین فرانسیسی وزارت خارجہ کی مدد سے غزہ کی پٹی سے روانہ ہوئے تھے۔ اس وقت یہ قدم قابض اسرائیل کی مسلسل بمباری اور سفاکیت سے بچ نکلنے کا ایک ذریعہ اور زندگی کی نئی امید معلوم ہو رہا تھا۔

الجزیرہ نیٹ پر نامہ نگار یاسر البنا کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مظلوم ماں کو یہ امید تھی کہ وہ سفری دستاویزات کی تیاری کے بعد جلد ہی ان سے جا ملے گی، لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ غزہ کی پٹی کے مقتل میں ہی پھنس کر رہ گئیں جبکہ ان کے شوہر اور بچے فرانس پہنچ گئے۔

غزہ کی پٹی میں قابض دشمن کی فوجی کارروائیوں میں شدت اور مواصلاتی رابطوں کے منقطع ہونے کے باعث رغدہ کا اپنے خاندان سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وسطی غزہ میں واقع نصیرات کیمپ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئیں، جبکہ ان کے شوہر بچوں کے ہمراہ جنوب میں خان یونس منتقل ہو گئے۔ دسمبر سنہ 2023ء میں بچوں کے دادا انہیں لے کر پیرس روانہ ہو گئے اور یوں یہ ماں تنہا رہ گئی۔

ابھی اس خاندان کے زخم تازہ ہی تھے کہ 15 جولائی سنہ 2024ء کو ایک غیر متوقع اور دلخراش موڑ آیا۔ فرانسیسی حکام کے شعبہ تحفظ اطفال نے تینوں معصوم بچوں کو ان کے والد سے زبردستی چھین کر ایک سرکاری کیئر ہوم میں منتقل کر دیا اور ان کا اپنے خاندان سے براہ راست رابطہ بھی منقطع کر دیا۔

متاثرہ خاندان کے مطابق یہ ظالمانہ فیصلہ ایک ایسی شکایت پر کیا گیا جس میں والد پر بچوں پر تشدد کا الزام لگایا گیا تھا، حالانکہ اس حوالے سے کوئی طبی یا سکول کی رپورٹ بطور ثبوت موجود نہیں تھی۔ 30 مارچ سنہ 2026ء کو ہونے والی عدالتی سماعت کے دوران معصوم بچوں نے اپنے پیاروں سے ملنے کی تڑپ کا اظہار کیا، جبکہ خاندان کے وکلاء اور سوشل سروسز نے بھی دوبارہ خاندانی رابطوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

رغدہ الشیخ کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکام نے گذشتہ تقریباً ایک سال سے انہیں اپنے بچوں سے ویڈیو کال پر بات کرنے سے روک رکھا ہے اور انہیں صرف تحریری خطوط تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ان خطوط کے جوابات بھی کئی ہفتوں کی تاخیر سے ملتے ہیں جن میں بچوں کی زندگی اور ان کی حالت کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہوتیں۔

انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ بچوں سے ہونے والی آخری تصویری گفتگو میں انہیں ایک مترجم کی ضرورت پڑی کیونکہ معصوم بچے اپنی مادری زبان عربی بھولتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ کہیں ان کے بچے اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔

رغدہ الشیخ اس وقت غزہ شہر کے ایک پناہ گزین مرکز میں مقیم ہیں، کیونکہ شمالی غزہ میں واقع شیخ رضوان کے علاقے میں ان کا گھر قابض اسرائیل کی بمباری سے مکمل تباہ ہو چکا ہے اور وہ اپنا سب کچھ کھو چکی ہیں۔ وہ پناہ گاہ کے ان مراکز کو انسانی رہائش کے لیے غیر موزوں قرار دیتی ہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات کا نام و نشان تک نہیں۔

وہ اپنے دکھ کو کم کرنے کے لیے اپنے بچوں کے ان کھلونوں اور کپڑوں کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں جو انہوں نے تباہ شدہ گھر کے ملبے سے نکالے تھے۔ ان یادوں اور کبھی کبھار ملنے والی تصاویر کے سہارے وہ اپنی زندگی کے کٹھن دن کاٹ رہی ہیں۔

اس غمزدہ ماں کو شدید خدشہ ہے کہ ان کے بچے سرکاری مراکز میں رہ کر اپنے دین اور تہذیب سے دور ہو جائیں گے یا انہیں کسی غیر مسلم خاندان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیمی پسماندگی اور جذباتی تحفظ کی کمی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رغدہ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی سے نکل کر فرانس میں اپنے خاندان سے ملنے کی اجازت دی جائے یا ان کے بچوں کو واپس ان کے پاس بھیجا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر پر لگائے گئے الزامات سراسر بے بنیاد ہیں اور وہ جنگ سے پہلے اپنے بچوں کی بہترین پرورش کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی اس المناک داستان کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ وہ ایک ایسی جدائی کی زندگی جی رہی ہیں جس کا ذائقہ موت سے بھی زیادہ کڑوا ہے۔