جنوبی لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں 4 شہری شہید، سرحدی بستیوں پر جوابی میزائل باری

0
3

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں نافذ العمل کمزور سیز فائر کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ معاہدے کے نفاذ کو نو روز گذرنے اور اس میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کے باوجود قابض دشمن کی جانب سے فضائی حملوں، توپ خانے کی گولہ باری اور رہائشی مکانات و عمارات کو مسمار کرنے کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

لبنانی ذرائع کے مطابق ہفتہ کی شام جنوبی لبنان کی بستی یحمر الشقیف میں قابض دشمن نے ایک موٹر سائیکل کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 4 افراد شہید ہو گئے، جو کہ سیز فائر معاہدے کی تازہ ترین اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

لبنانی وزارت صحت کی جانب سے جمعہ کی شام جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سنہ 2026ء سے لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت میں شہداء کی کل تعداد 2,491 ہو چکی ہے جبکہ 7,719 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب لبنان کی سرزمین سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں کریات شمونہ کے سرحدی علاقے میں واقع مرغلیوت، مسغاف عام اور منارا جیسی بستیوں میں سائرن بج اٹھے۔ قابض اسرائیل کی فوج نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ اس نے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جبکہ دوسرا ایک کھلے علاقے میں گرا۔

قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی افواج کی تعیناتی کے علاقے میں ایک مشتبہ فضائی ہدف کو روکنے کا دعویٰ بھی کیا اور بتایا کہ اس نے اسرائیلی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جس کے باعث مروجہ پالیسی کے تحت سائرن نہیں بجائے گئے۔

لبنانی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک اور خلاف ورزی میں قابض افواج نے ہفتہ کی صبح مروحین نامی بستی کے گرد و نواح میں مشین گنوں سے شدید فائرنگ کی۔

ادھر قابض اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے رات کے اوقات میں جنوبی لبنان کے تین مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے میزائل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنایا۔ فوج کا کہنا تھا کہ یہ مقامات نام نہاد پیلی لکیر کے شمال میں واقع تھے جو کہ اسرائیل کے نام نہاد سکیورٹی زون سے باہر لبنانی علاقے میں آتے ہیں۔ قابض فوج نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ یہ لانچنگ پیڈز اس کی افواج اور سرحدی بستیوں کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز لبنانی شہریوں کو جنوبی لبنان کے تقریباً 80 دیہاتوں کے قریب جانے یا وہاں واپس لوٹنے سے خبردار کیا ہے، جن میں سے 55 دیہات اس کے زیر قبضہ پیلی لکیر کے علاقے میں آتے ہیں۔ یہ وارننگ سیز فائر معاہدے کی موجودگی اور اس میں تین ہفتوں کی توسیع کے باوجود جاری کی گئی ہے۔

قابض دشمن کے بیان کے مطابق جن دیہاتوں میں واپسی سے روکا گیا ہے ان میں عین عطا، عین قنیا، ابل السقی، مرجعیون، ارنون، یحمر الشقیف، زوطر الغربیہ، کفر شوبا، الماری، دیر میماس، فرون، قبرینخا، مجدل سلم، شقرا، بیت یاحون، حداثا، صربین، یاطر، زبقین، مجدل زون اور مزرعہ بیوت السیاد شامل ہیں۔

ان دیہاتوں کی فہرست میں البیاضہ، شاما، طیر حرفا، ابو شاش، الجبین، الناقورہ، ظہیرہ، مطمورہ، یارین، الجبین، ام توتہ، الزلوطیہ، بستان، شیحین، مروحین، رامیہ، بیت لیف، صلحانہ، عیتا الشعب، حنین، طیری، رشاف، یارون، مارون الراس، بنت جبیل، عیناتا، کونین، عیترون اور بلیدا بھی شامل ہیں۔

تحذیر میں محیبب، میس الجبل، قلعہ دبا، حولا، مرکبا، طلوسہ، بنی حیان، رب الثلاثین، عدیسہ مرجعیون، کفر کلا، طیبہ، دیر سریان، قنطرہ، علمان، عدشیت القصیر، القصیر، میساتن، لبونہ، اسکندرونہ، شمعا، ججیم، الضہیرہ، یرین، خربہ الکسیف، خیام، صلیب، مزرعہ سردہ اور مجیدیہ کے دیہات بھی شامل ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دریائے لیطانی اور وادی صلحانی و سلوقی کے علاقوں میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے جنوبی لبنان کے 55 دیہاتوں پر مکمل قبضے کا اعلان کیا تھا جنہیں پیلی لکیر کا نام دیا گیا ہے، جہاں بے گھر ہونے والے شہریوں کی واپسی پر پابندی ہے اور قریب آنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اپریل سنہ 2026ء کو لبنان میں قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ سیز فائر کا اعلان کیا تھا جس میں توسیع کی گنجائش رکھی گئی تھی، جس کے بعد جمعرات کے روز اس میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی۔

اس سیز فائر سے قبل 2 مارچ سنہ 2026ء کو قابض اسرائیل نے لبنان پر وحشیانہ جارحیت کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک 2,491 افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور 7,719 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر کئی دہائیوں سے غصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ بعض علاقے اکتوبر سنہ 2023ء سے نومبر سنہ 2024ء کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے۔ موجودہ جارحیت میں قابض دشمن کی فوج جنوبی سرحد کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک گھس آئی ہے۔