مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اس سفاکیت میں رہائشی مکانات اور تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ بھی دراز ہوتا جا رہا ہے۔
ہفتے کی شام شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان پر قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 3 شہری جام شہادت نوش کر گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ شیخ رضوان کے علاقے میں الدحیان سکول کے گرد و نواح میں قابض اسرائیل کے ڈرون طیارے نے میزائل داغا جس کی زد میں آ کر ایک ننھے بچے سمیت 3 فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشفاء ہسپتال کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان تینوں شہداء کے جسد خاکی اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ہفتے کی دوپہر شمالی غزہ کی پٹی میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے علاقے الہوجا میں نوجوان بہجت ابو العیش قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
طبی اور مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلح کے مغرب میں چند روز قبل قابض اسرائیل کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی ننھی بچی دعا محمد سلیمان رحیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کے روز قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت 13 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ کئی افراد شدید زخمی ہوئے۔
میدانی حالات کی بات کی جائے تو ہفتے کی صبح قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں واقع مغازی پناہ گزین کیمپ کے مشرقی حصوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور جنوب میں خان یونس کے مشرقی علاقوں کو توپ خانے اور گولیوں کا نشانہ بنایا جہاں کئی مقامات پر دوبارہ گولہ باری کی گئی۔
اسی طرح قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحلی علاقوں پر گولہ باری کی جبکہ قابض فوج نے شہر کے مشرقی حصے میں واقع شہری تنصیبات کو بارودی مواد سے دھماکہ کر کے زمین بوس کر دیا۔
خان یونس کی فضاؤں میں ڈرون طیاروں کی نچلی پروازیں اور گشت جاری رہا جبکہ شہر کے گرد و نواح میں تعینات فوجی گاڑیوں سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
یہ تمام ہولناک واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب عرب ممالک اور امریکہ کی ثالثی میں 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو دو سال کی طویل جنگ کے بعد سیز فائر کا معاہدہ طے پایا تھا۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد 791 ہو چکی ہے اور 2235 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک مجموعی طور پر 72,568 فلسطینی شہید اور 172,338 زخمی ہو چکے ہیں۔


