مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے حزب اللہ کے اہداف پر بھرپور طاقت کے ساتھ حملوں کی ہدایات کے بعد جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ سنگین صورتحال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ کمزور جنگ بندی کو ایک حقیقی امتحان میں ڈال رہی ہے۔
اس اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ متعدد دیہاتوں کے جنوب کی طرف نقل و حرکت نہ کریں، جبکہ دریائے لیطانی اور جنوبی وادیوں سمیت اہم علاقوں کے قریب جانے سے بھی خبردار کیا ہے، جو کہ میدان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مظہر ہے۔
لبنان کی قومی ایجنسی برائے اطلاعات نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کی غارت گری اور دھمکیوں کے بعد دریائے لیطانی کے جنوبی دیہاتوں سے صیدا شہر کی جانب بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔ اس دوران علاقے کے کئی قصبوں میں یونيفل فورسز کے گشتی دستوں کی بڑی تعداد بھی دیکھی گئی ہے۔
میدانی صورتحال کے مطابق قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایک ہی دن میں درجنوں فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ جواب میں حزب اللہ نے جوابی حملے کیے جن میں ڈرون طیاروں کا استعمال اور جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانا شامل ہے، حزب اللہ نے ان حملوں میں براہ راست ہدف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
یہ وحشیانہ فضائی حملے حداثا، زبقین، خربہ سلم اور سلطانیہ سمیت کئی قصبوں تک پھیل گئے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں خاص طور پر خیام قصبے پر شدید گولہ باری کی جا رہی ہے جہاں بڑے پیمانے پر دھماکوں اور تباہی کے بعد دھوئیں کے گہرے بادل اٹھ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں اتوار 26 اپریل سنہ 2026ء کی علی الصبح جنوبی لبنان کے قصبے شمع کے مضافات پر قابض اسرائیلی توپ خانے نے متعدد گولے برسائے، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
قومی ایجنسی نے مزید بتایا کہ قصبہ یحمر الشقیف پر صبح سے وقفے وقفے سے گولہ باری جاری ہے جو زوطر کے مضافات تک پھیل گئی ہے، جبکہ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے وسطی زوطر الشرقیہ پر غارت گری کی، جس کے ساتھ ساتھ زوطر، میفدون اور دیر سریان و یحمر کے درمیان وادی النہر پر بھی شدید توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔
دوسری طرف قابض اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے موجودہ مفاہمت کے خاتمے کے خدشے سے خبردار کیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی مداخلت اور دباؤ کے بغیر جاری کشیدگی میدانی حالات کی پیچیدگی اور محاذ آرائی کی رفتار کے باعث صورتحال کو دھماکہ خیز بنا سکتی ہے۔


