محاصرہ اور امداد میں کٹوتی ایک مسخ شدہ معاشی حقیقت کو جنم دے رہے ہیں: معاشی عہدیدار

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ میں وزارتِ اقتصاد کے انڈر سیکرٹری حسن ابو ریالہ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کی جنگ رکی نہیں ہے بلکہ اس کے اوزار اور شکلیں بدل گئی ہیں، ان کے نزدیک حصار جنگ کی سب سے سفاک ترین شکل ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ قابض حکام حصار کو آبادی کو اذیت دینے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور روزمرہ زندگی کی تفصیلات کو کنٹرول کر کے ایک ایسی مسخ شدہ معاشی حقیقت پیدا کر رہے ہیں جو انسانی بحرانوں کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن امداد اور سامان کی آمد و رفت کو محدود کر کے اور امدادی اداروں کے کام میں رکاوٹیں ڈال کر حصار اور فاقہ کشی کی باقاعدہ انجینئرنگ کر رہا ہے۔

اخبار العربي الجديد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ اشیاء کی درآمد کو صرف چند تاجروں تک محدود کرنے سے اجارہ داری پیدا ہوئی اور قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا، کیونکہ سپلائی کم اور طلب بہت زیادہ ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی حکام کا سامان کی آمد کے طریقہ کار پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معاشی سرگرمیاں بے مثال نچلی سطح پر گرنے کے باعث معاشرہ بقا کی روزانہ کی جنگ لڑ رہا ہے۔

یہ بحران ایران پر جنگ کے بعد ایک نئے دھچکے کے ساتھ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں سرحدوں اور گزرگاہوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں، جس سے سپلائی چین درہم برہم ہو گئی اور امدادی سامان کی آمد میں مزید کمی واقع ہوئی۔ ابو ریالہ نے انکشاف کیا کہ مارچ کے مہینے میں درآمدات فروری کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ کم رہیں، حالانکہ فروری کی سطح بھی بنیادی طور پر ناکافی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس صورتحال نے اشیاء کے ذخیرے کو انتہائی نازک بنا دیا ہے، یہاں تک کہ گزرگاہوں کے صرف ایک دن کی بندش سے قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں روزانہ 600 ٹرکوں کی آمد طے پائی تھی، جبکہ عملی طور پر بہترین حالات میں بھی یہ تعداد نصف سے زیادہ نہیں ہوتی۔

اعداد و شمار میں بحران کی شدت

اشاریے زندگی کے بڑھتے ہوئے بحران کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں: روٹی کی فراہمی میں 50 فیصد سے زیادہ کی کمی، آٹے کی روزانہ کی ضرورت تقریباً 450 ٹن ہے جبکہ صرف 200 ٹن دستیاب ہے، اور 44 ہزار خاندان روزانہ سبسڈی والی روٹی پر انحصار کرتے ہیں۔

اس کی وجہ عالمی غذائی پروگرام کی جانب سے تندوروں (بیکریز) کی حمایت میں کمی اور دیگر اداروں کی جانب سے روٹی کی فراہمی کا بند ہونا ہے۔ ابو ریالہ نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں 142 تندور اور پوائنٹس موجود ہیں، لیکن وہ ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے اور نہ ہی تمام علاقوں بالخصوص پناہ گزینوں کی قیام گاہوں کا احاطہ کرتے ہیں۔

غزہ ایندھن کی قلت اور تیل، اسپیئر پارٹس اور جنریٹرز کی درآمد پر پابندی کی وجہ سے بجلی اور آمد و رفت کے شعبوں میں تقریباً مکمل تعطل کا شکار ہے۔ عہدیدار نے خبردار کیا کہ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور شہری دفاع کے زیرِ استعمال جنریٹرز اچانک بند ہو سکتے ہیں۔ نیز، کنوؤں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور پانی کی تقسیم والی گاڑیوں کے متاثر ہونے سے پینے اور دھونے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

صنعتی شعبے میں فیکٹریوں اور تنصیبات کی وسیع پیمانے پر تباہی کے نتیجے میں نقصانات کی شرح 95 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور بے روزگاری و غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

ابو ریالہ نے اشارہ کیا کہ زیادہ تر فیکٹریاں مشرقی علاقوں میں واقع ہیں جو اب بھی قابض اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں، جس کی وجہ سے ان تک رسائی یا ان کی بحالی ممکن نہیں ہے۔

ابو ریالہ نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ غزہ کو مکمل زندگی کے بحران کا سامنا ہے، انہوں نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امداد کے حجم میں اضافے، گزرگاہوں کو وسیع پیمانے پر کھولنے اور اشیاء کی مقدار و معیار کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

یاد رہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ اس جنگ کے بعد ہوا جو آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد افراد شہید اور تقریباً 172 ہزار زخمی ہوئے، اس کے علاوہ تقریباً 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔

اس کے پیشِ نظر، غزہ ایک ایسی معیشت کے سامنے کھڑا ہے جس کی بحالی کی صلاحیت چھین لی گئی ہے، اور ایک ایسا معاشرہ جسے بقا کی آخری حدود تک دھکیل دیا گیا ہے، لہٰذا جنگ بندی یا انسانی بنیادوں پر ریلیف کی کوئی بھی بات تب تک ادھوری ہے جب تک اسے گزرگاہوں کے عملی طور پر کھلنے، اور امداد، ایندھن و بنیادی سامان کی باقاعدہ و محفوظ آمد میں ترجمہ نہ کیا جائے، تاکہ فاقہ کشی کی پالیسی کو روکا جا سکے اور فلسطینیوں کو زندگی کی بحالی کا حقیقی موقع مل سکے۔