ٹیکس وصولیوں سے 590 ملین شیکل کی کٹوتی، قابض اسرائیل کی فلسطینی اتھارٹی کی مالی ناکہ بندی میں شدت

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

سیاسی دباؤ کے لیے مالیاتی ہتھیاروں کے مسلسل استعمال کے ایک اور واقعے میں قابض حکام نے آج پیر کے روز فلسطینی ٹیکسوں کی رقم (مقاصہ) کو روکنے اور اسے اتھارٹی کے خزانے میں منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم ان بڑھتے ہوئے اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد فلسطینی اتھارٹی کی مالی صلاحیت کو کمزور کرنا اور فلسطینی محصولات پر قبضے کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔

قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ماہ جمع ہونے والے ٹیکسوں کی رقم 740 ملین شیکل سے تجاوز کر گئی تھی جس میں سے تقریباً 590 ملین شیکل کاٹ لیے گئے ہیں جبکہ بقیہ رقم کو بھی منجمد کرنے اور منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیر خزانہ اور نام نہاد سول ایڈمنسٹریشن کے وزیر بزلئیل سموٹریچ کی ہدایت پر کیا گیا ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف سخت مالیاتی پالیسی کی قیادت کر رہے ہیں۔

قابض حکومت ان کٹوتیوں کا جواز بجلی اور پانی کی کمپنیوں اور اسرائیلی اداروں کے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کو بتاتی ہے، اس کے علاوہ ایسے بہانے بھی تراشے جاتے ہیں کہ یہ رقم ان لوگوں تک پہنچنے سے روکنی ہے جنہیں وہ دہشت گرد قرار دیتے ہیں، نیز عالمی فورمز پر فلسطینی اتھارٹی کی سرگرمیوں پر اسے سزا دینا بھی مقصود ہے۔

یہ اقدام اس منظم پالیسی کا تسلسل ہے جو برسوں سے جاری ہے، خاص طور پر سنہ 2019ء سے جب قابض حکام نے اسیران اور شہداء کے خاندانوں کے وظائف کی ادائیگی کے بہانے ٹیکس محصولات سے مختلف رقوم کاٹنا شروع کی تھیں۔ اس کے بعد سے یہ پالیسی اتھارٹی کے ساتھ تعلقات میں ایک مستقل ہتھیار بن چکی ہے، جس میں سیاسی اور سکیورٹی حالات کے مطابق توسیع کی جاتی رہتی ہے۔

ٹیکسوں کی یہ رقم فلسطینی اتھارٹی کا سب سے اہم مالیاتی ذریعہ ہے، کیونکہ یہ فلسطینی علاقوں میں درآمد شدہ اشیاء پر لگائے گئے ٹیکسوں کی وہ آمدنی ہے جسے قابض اسرائیل اتھارٹی کی جانب سے جمع کرتا ہے۔ ان رقوم کی مسلسل کٹوتی یا انہیں روک لینے سے مالی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے، خاص طور پر ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے اور نجی شعبے کے قرضے چکانے سے قاصر ہو چکی ہے۔

اس تناظر میں فلسطینی وزیر خزانہ اسطفان سلامہ نے گذشتہ فروری سنہ 2026ء میں انکشاف کیا تھا کہ قابض حکام نے ٹیکس محصولات کے تقریباً 4.4 بلین ڈالر روک رکھے ہیں، جو فلسطینی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

حالیہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اتھارٹی ایک دم گھٹتے ہوئے مالی بحران کا شکار ہے، جس میں گذشتہ مہینوں کے دوران ٹیکسوں اور کسٹم محصولات کی عدم منتقلی سے مزید اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے اور ان اقدامات کو متوازی مالیاتی قبضے کی ایک شکل قرار دیا ہے۔

محمد مصطفیٰ نے کہا کہ قابض دشمن کی پالیسیاں محض عسکری حصار تک محدود نہیں ہیں بلکہ معاشی اور مالیاتی ہتھیاروں تک پھیلی ہوئی ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کو جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حکومت دو متوازی راستوں پر کام کر رہی ہے: ایک طرف روکی گئی رقوم کی واگزاری کے لیے دباؤ ڈالنا اور دوسری طرف ان پالیسیوں کے مقابلے میں اندرونی طور پر استقامت پیدا کرنا۔

اس معنی میں اسرائیلی فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ معاشی تعلقات کی نئی تشکیل کے وسیع تر تناظر سے الگ نہیں ہے، جس کے ذریعے فلسطینی وسائل کو مستقل دباؤ کے کارڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی سیاسی حرکت کو مقید کیا جا سکے اور ان کے ساختی بحران کو مزید گہرا کیا جائے، جبکہ دوسری جانب پے در پے بحرانوں کے جواب میں فلسطینی اداروں کی صلاحیت مسلسل ختم ہو رہی ہے۔