جنوبی لبنان میں کشیدگی میں اضافہ، قابض اسرائیل کی بقاع تک فضائی کارروائیاں اور حزب اللہ کے جوابی حملے

0
10

مرکزاطلاعات فلسطین

لبنان میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود قابض اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔ فضائی حملوں اور جوابی میزائل حملوں کا تبادلہ شمالی محاذ پر حالات کے ایک وسیع تر تصادم کی طرف جانے کے بڑھتے ہوئے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔

میدانی صورتحال کے مطابق قابض فوج نے اپنی فضائی کارروائیوں کا دائرہ کار مشرقی لبنان کے علاقے بقاع تک بڑھا دیا ہے، جو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک کا پہلا واقعہ ہے۔ قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بقاع اور ملک کے جنوبی حصوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔

یہ پیشرفت بنت جبیل ضلع کے علاقوں میں شدید فضائی حملوں کے ساتھ ہم آہنگ تھی، جن میں کفرا قصبے کا مضافاتی علاقہ بھی شامل ہے، جہاں مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بمباری کے نتیجے میں وہاں جانے والے راستے کٹ گئے ہیں۔

فضائی حملے جنوب کے دیگر قصبوں تک بھی پھیل گئے، جہاں ڈرون طیاروں نے صور کے جنوب میں المنصوری قصبے کو نشانہ بنایا، اس کے علاوہ تبنین قصبے پر ایک حملہ اور کفرا پر دوبارہ بمباری کی گئی، جو کہ جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔

بیروت کے قریب علاقوں کے اوپر اسرائیلی جاسوس طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں، جو کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہونے کا اشارہ ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے عسکری ٹھکانوں اور جنوب میں فوجیوں کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کی قابض دشمن کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں اور لبنانی دیہاتوں کو نشانہ بنانے کا جواب ہے۔

قابض فوج نے دعویٰ کیا کہ لبنان سے اس کی جنوبی لبنان میں تعینات افواج کی جانب ایک بارودی ڈرون داغا گیا جو قریب ہی جا کر پھٹا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔ قابض فوج نے ان حملوں کو حزب اللہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عسکری آپریشنز جاری رکھے گی تاکہ ان کے بقول مسلح بنیادی ڈھانچے کو تباہ اور خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اسرائیلی جانب سے شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ کی صورتحال ہے، جہاں ڈرونز کی موجودگی کے بعد مغربی الجلیل اور سرحدی علاقوں میں سائرن بج اٹھے، جبکہ میرون کے علاقے میں عوامی تقریبات بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

کشیدگی کے متوازی معاریو نے انکشاف کیا ہے کہ قابض فوج نے آپریشن جاری رکھنے کے باوجود لبنان کے اندر تعینات اپنی افواج کا کچھ حصہ واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس واپسی میں 162 ویں ڈویژن کی کمی شامل ہے، جس کا کمانڈ ہیڈ کوارٹر شمالی سرحد سے منتقل کر دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید دستے نکال کر دوسرے محاذوں پر تعینات کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق انخلاء کا عمل 162 ویں ڈویژن کی موجودگی کو کم کر کے شروع ہوا جو لبنان میں کام کرنے والے تین ہنگامی ڈویژنوں میں سے ایک ہے۔ نیز کچھ افواج کی دوبارہ تعیناتی بھی کی گئی ہے، جن میں 401 ویں بریگیڈ کی دو بٹالین شامل ہیں جو 146 ویں ڈویژن کا حصہ ہیں، جبکہ 226 ویں ریزرو پیراٹروپر بریگیڈ ساحلی سیکٹر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 36 واں ڈویژن فی الحال لبنان کے اندر مرکزی ہنگامی قوت کے طور پر موجود ہے، جس کے تمام فارمیشنز، بشمول گولانی بریگیڈ، ساتویں آرمرڈ بریگیڈ اور دیگر فائرنگ یونٹس مکمل طور پر تعینات ہیں۔

یہ پیشرفت ان میدانی پابندیوں کے سائے میں ہو رہی ہے جو جنگ بندی کی وجہ سے عائد ہیں، خاص طور پر دریائے لیتانی کی طرف پیش قدمی نہ کرنے کے حوالے سے۔ باقی ماندہ افواج یلو لائن کے قریب علاقوں میں محدود کارروائیاں اور تباہی کے مشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔