مرکزاطلاعات فلسطین
عالمی طبی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ قابض صہیونی حکام غزہ کی پٹی کے مکینوں کو زندگی کے لیے ناگزیر پانی سے دانستہ طور پر محروم کر رہے ہیں۔ تنظیم نے اس عمل کو فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا کی مہم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
تنظیم نے اپنی رپورٹ جس کا عنوان پانی ایک ہتھیار ہے، میں کہا ہے کہ پانی کے بنیادی شہری ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی اور اس تک رسائی میں رکاوٹیں اس نسل کشی کا اٹوٹ حصہ ہیں جو غزہ کی پٹی میں جاری ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پانی کی مصنوعی قلت اور شہریوں کا قتل عام، صحت کی سہولیات اور گھروں کی تباہی ایک ساتھ ہو رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار اور شہادتوں کی بنیاد پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ غزہ کے مکینوں پر تباہ کن اور غیر انسانی زندگی مسلط کی جا رہی ہے۔
تنظیم کی ایمرجنسی ڈائریکٹر کلیئر سان فیلیپو نے کہا کہ قابض حکام بخوبی جانتے ہیں کہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض فوج نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے اور ساتھ ہی اس سے متعلقہ سپلائی کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔
اگرچہ گذشتہ اکتوبر سنہ 2025ء میں سیز فائر کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا تاہم غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی جانب سے تشدد اور روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے غزہ کی پٹی سے مصر تک طبی انخلاء کے آپریشنز کو تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے، یہ فیصلہ مشرقی غزہ کے محلوں میں پانی کی فراہمی کے دوران تنظیم کے ایک ٹھیکیدار کی قابض فوج کی فائرنگ سے شہادت کے بعد کیا گیا۔
مصنوعی قلت
یہ رپورٹ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس کے مطابق غزہ میں پانی اور نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ یا بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس، کنویں، پائپ لائنیں اور سیوریج نیٹ ورک یا تو ناقابل استعمال ہو چکے ہیں یا ان تک رسائی ناممکن ہے، جبکہ پانی کے ٹرکوں اور کنوؤں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
سان فیلیپو نے مزید کہا کہ کئی فلسطینی صرف پانی حاصل کرنے کی کوشش میں زخمی ہوئے اور شہید کر دیے گئے۔
تنظیم نے نشاندہی کی کہ مقامی حکام کے تعاون سے وہ غزہ میں پانی فراہم کرنے والے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ گذشتہ ماہ تنظیم نے 4 لاکھ 7 ہزار سے زائد افراد کی کم از کم ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ 53 لاکھ لیٹر سے زائد پانی فراہم کیا۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بتایا کہ پانی اور نکاسی آب کی اہم اشیاء مثلاً پانی صاف کرنے والی یونٹس، پمپ، پانی کے ٹینک اور پانی کو صاف کرنے والے کیمیکلز لانے کے لیے ان کی ایک تہائی درخواستیں مسترد کر دی گئیں یا ان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ پانی کی فراہمی میں رکاوٹ، شدید ہجوم اور صحت کے نظام کی تباہی کے ساتھ مل کر بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے۔
تنظیم نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے مکینوں کو فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کرے اور اس کے حامیوں پر زور دیا کہ وہ انسانی امداد کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو ختم کروانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔


