مرکزاطلاعات فلسطین
یوکرین نے مقبوضہ یوکرینی علاقوں سے چوری شدہ غلہ کی کھیپوں کی قابض اسرائیل کی بندرگاہوں پر مسلسل آمد کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کو اس بات پر زور دیا کہ روس کی جانب سے یوکرینی زمینوں سے قبضے میں لیے گئے غلہ کی خریداری کسی صورت قانونی عمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ کیف اس تجارت سے فائدہ اٹھانے والے فریقوں کے خلاف پابندیاں تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ اس غلہ سے لدا ہوا ایک نیا جہاز قابض اسرائیل کی ایک بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے اور اپنا سامان اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔
زیلنسکی کے یہ بیانات عبرانی اخبار ہارٹز میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چوری شدہ یوکرینی غلہ لے جانے والے مشتبہ جہاز حیفا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایونسک نامی ایک روسی مال بردار جہاز تقریباً دو ہفتے قبل گندم لے کر بندرگاہ پر پہنچا جس پر کیف کی جانب سے باضابطہ احتجاج کیا گیا۔ کیف نے اس کھیپ کے حوالے سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔
تحقیق کے مطابق یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے بلکہ جہاز رانی کے اعداد و شمار اور سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 2023ء کے دوران کم از کم دو ایسے جہاز قابض اسرائیل پہنچے جو اسی طرح کا غلہ لے کر آئے تھے جبکہ سات دیگر جہازوں پر شبہ ہے کہ انہوں نے اپنی کھیپ کا اصل ذریعہ چھپانے کی کوشش کی۔
اسی طرح مقبوضہ یوکرینی علاقوں کی بندرگاہوں کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ گندم کی 30 سے زائد کھیپیں قابض اسرائیل کی طرف بھیجی گئی ہیں۔
اسی تناظر میں اخبار کے ذرائع نے بتایا کہ رواں سال کے دوران چوری شدہ گندم کی کم از کم چار کھیپیں قابض اسرائیل میں اتاری گئی ہیں جبکہ کیف ان اشیاء کی درآمد کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ یوکرین نے اس سلسلے میں تل ابیب سے قانونی تعاون کی درخواست بھی کی تھی جس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس غلہ کی منتقلی پیچیدہ بحری میکانزم پر منحصر ہے جس میں سب سے نمایاں طریقہ کھلے سمندر میں سرکاری بندرگاہوں سے دور ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں سامان کی منتقلی ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران لوڈنگ کے وقت ٹریکنگ ڈیوائسز بند کر دی جاتی ہیں اور بعد میں دوبارہ آن کی جاتی ہیں تاکہ کھیپ کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔
تحقیق میں تیرتے ہوئے گوداموں کے کردار کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے جہاں غلہ کو دوبارہ لوڈ کرنے سے پہلے عارضی طور پر ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ یہ اسمگلنگ کا وہ نظام ہے جسے روس نے جنگ کے آغاز سے تیار کیا ہے جس میں یوکرینی غلہ کو روسی غلہ کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تاکہ اس کی منزل کے بارے میں گمراہ کیا جا سکے۔
ایک متعلقہ پیش رفت میں یوکرینی وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے کہا کہ ان کے ملک نے قابض اسرائیل کو دوبارہ خبردار کیا ہے کہ اس غیر قانونی تجارت کا تسلسل دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ماضی میں بھیجے گئے مطالبات پر قابض اسرائیل کی جانب سے کوئی مناسب ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یوکرینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کیف میں مقیم اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے جس میں ان کھیپوں کے داخلے کو روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اس معاملے کو اٹھانے کے طریقے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات میڈیا یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نہیں چلائے جاتے۔ انہوں نے زعم کیا کہ قابض اسرائیل کو ابھی تک کافی شواہد یا قانونی مدد کی کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
ساعر نے یقین دہانی کرائی کہ قابض اسرائیلی حکام اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور متعلقہ ادارے رائج قانونی طریقہ کار کے مطابق اس فائل سے نمٹیں گے۔
یہ پیش رفت غلہ کی کھیپوں کے معاملے پر کیف اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور الزامات کے تبادلے کی عکاسی کرتی ہے جس سے دونوں کے تعلقات متاثر ہونے کا امکان ہے۔


