مرکزاطلاعات فلسطین
رومن آرتھوڈوکس چرچ کے آرچ بشپ مطران عطا اللہ حنا نے مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطین میں مسیحیوں کے خلاف قابض اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو نسل پرستانہ اور منظم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پادریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا شہر کے مقدس تشخص کو مسخ کرنے کی صہیونی کوششوں کا حصہ ہے۔
الجزیرہ نیٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں المطران حنا نے کہا کہ یہ حملے محض انفرادی واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ اس سوچی سمجھی پالیسی کا عکاس ہیں جس کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس میں عرب فلسطینی وجود، خواہ وہ مسلمان ہوں یا مسیحی، کو کمزور اور دیوار سے لگانا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل کے سیاست دان اس نفرت انگیز ماحول کو ہوا دینے میں براہ راست ملوث ہیں۔
المطران حنا کے یہ بیانات مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) میں ایک فرانسیسی راہبہ پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ باب العمود کے قریب اپنے خانقاہ کی طرف واپسی کے دوران راہبہ پر وحشیانہ اور سفاکانہ حملہ کیا گیا جس سے وہ زخمی اور نڈھال ہو گئیں، تاہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ کوئی اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ یہ سنہ 1967ء سے مسیحیوں اور ان کے مقدسات کے خلاف جاری ان خلاف ورزیوں کے طویل سلسلے کی کڑی ہے جن میں لفظی توہین، پادریوں پر تھوکنا اور جسمانی تشدد شامل ہے۔ المطران حنا کے مطابق زیادہ تر مسیحی پادریوں اور راہباؤں کو اس قسم کی توہین آمیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آرچ بشپ نے واضح کیا کہ فلسطین میں مسیحیوں کو انہی حالات کا سامنا ہے جو مسلمانوں کے درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی قوم ہیں اور ہمارے مقدسات، اوقاف اور زندگی کی تمام تفصیلات کو یکساں طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حملے اس نسل پرست مکتبہ فکر کی عکاسی کرتے ہیں جو مقبوضہ بیت المقدس میں مذہبی تنوع کا کوئی احترام نہیں کرتا۔
مسیحی آبادی میں کمی
المطران حنا نے قابض اسرائیل کے سرکاری اداروں پر اس طرز عمل کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک اسرائیلی وزیر کے بیان کا حوالہ دیا جس میں مسیحیوں پر تھوکنے کو ایک قدیم یہودی روایت قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات ان مظالم کو قانونی جواز فراہم کرتے اور انہیں مزید بھڑکاتے ہیں۔
اس تناظر میں انہوں نے بتایا کہ سیاسی، معاشی اور سماجی دباؤ کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث فلسطین میں مسیحیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس اور بیت لحم میں فلسطینیوں کو جغرافیائی قربت کے باوجود اپنے مقدسات تک رسائی سے محروم رکھا جاتا ہے۔
ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مسیحیوں کی تعداد اب تقریباً 9900 رہ گئی ہے جو 13 گرجا گھروں سے وابستہ ہیں، جن میں لاطینی اور روم آرتھوڈوکس فرقے سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کی بڑی اکثریت شامل ہے۔
المطران حنا نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کی صورتحال، جہاں نسل کشی پر مبنی تباہ کن جنگ جاری ہے، وہاں بھی مأساوی انسانی حالات کے باعث مسیحیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
عالمی موقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں فلسطینیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی یکجہتی کے باعث عالمی گرجا گھروں کے موقف میں بہتری آئی ہے، لیکن مقدسات اور پادریوں کے تحفظ کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دنیا بھر کے مسیحی مذہبی پیشواؤں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی عوام کی طرف متوجہ ہوں، کیونکہ فلسطین کا دفاع درحقیقت دنیا میں مسیحی وجود کے مقدس ترین مقام کا دفاع ہے۔
انہوں نے فلسطینیوں کی داخلی وحدت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اسے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے فلسطینی کاز کو ختم کرنے والے منصوبوں کے خلاف اتحاد کی دعوت دی۔
المطران حنا نے اپنے خطاب کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود مسیحی اس زمین پر باقی رہیں گے اور مقبوضہ بیت المقدس ایک ایسا شہر رہے گا جہاں مسجد اقصی اور کلیساۃ القیامہ جڑواں بھائیوں کی طرح کبھی جدا نہیں ہوں گے۔


