اپریل کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے 1637 حملے، یہودی بستیوں کی توسیع اور مسماری میں اضافہ

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

نسلی دیوار اور بستیوں کے مخالف مزاحمتی کمیشن نے گذشتہ اپریل کے مہینے کے دوران قابض اسرائیل کی افواج اور آباد کاروں کی جانب سے کیے جانے والے 1637 حملوں کی دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں فلسطینیوں کی زمینوں، املاک اور شہریوں کو ایک منظم پالیسی کے تحت نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا ہے۔

کمیشن کے سربراہ مؤید شعبان نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج نے 1097 حملے کیے جبکہ وحشی آباد کاروں نے 540 حملے کیے، یہ تصاعد زمین پر تشدد اور قبضے کے آلات کو مزید تیز کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

نابلس 402 حملوں کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد الخلیل میں 340، رام اللہ اور البیرہ میں 312 جبکہ بیت لحم میں 171 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو مخصوص علاقوں میں حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان خلاف ورزیوں میں براہ راست جسمانی تشدد، درختوں کو نذر آتش کرنا اور جڑوں سے اکھاڑنا، کسانوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنا، املاک پر قبضہ، گھروں اور زرعی تنصیبات کی مسماری اور سکیورٹی وجوہات کا بہانہ بنا کر وسیع رقبے کی ناکہ بندی شامل ہے۔

آباد کاروں کی سفاکیت کے حوالے سے شعبان نے بتایا کہ مہینے کے دوران 540 حملے کیے گئے جو زیادہ تر نابلس، الخلیل، رام اللہ اور البیرہ میں مرکوز تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک ان حملوں کی کل تعداد 2016 تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ میں املاک کی توڑ پھوڑ کے 217، قبضے اور چوری کے 80 واقعات درج کیے گئے، جبکہ زیتون کے 4414 درختوں کو اکھاڑنے، تباہ کرنے اور انہیں زہر دینے کی کارروائیاں بھی رپورٹ ہوئیں جو الخلیل، رام اللہ، نابلس، مقبوضہ بیت المقدس اور بیت لحم میں کی گئیں۔

زیتون کے درختوں پر حملوں کی سب سے زیادہ تعداد الخلیل میں رہی جہاں 2169 درخت متاثر ہوئے، اس کے بعد رام اللہ اور البیرہ میں 1170، نابلس میں 740، مقبوضہ بیت المقدس میں 200 اور بیت لحم میں 135 درختوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

اسی تناظر میں رپورٹ نے اپریل کے دوران 21 نئی یہودی بستیاں قائم کرنے کی کوششوں کا انکشاف کیا، جن میں سے اکثریت زرعی اور چراگاہوں کی نوعیت کی ہے۔ ان میں سے 7 الخلیل میں، 5 نابلس میں، 4 رام اللہ اور البیرہ میں، 3 بیت لحم میں جبکہ جنین اور طوباس میں ایک ایک کوشش کی گئی۔

قابض اسرائیل کے حکام نے فوجی احکامات کے ذریعے فلسطینیوں کی 42 دونم زمین پر قبضہ کیا اور زمینوں پر کنٹرول بڑھانے کے لیے وسیع رقبے سے درخت ہٹانے کے احکامات جاری کیے۔

بستیوں کی توسیع کے حوالے سے شعبان نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں 34 نئے آباد کار مقامات کے قیام کی منظوری دی گئی، جس میں سنہ 2022ء کے آخر میں انتہائی دائیں بازو کی حکومت کی تشکیل کے بعد سے نمایاں تیزی آئی ہے، جس نے اب تک کم از کم 103 نئے مقامات کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کے منصوبہ بندی کے اداروں نے اپریل کے دوران بستیوں کے مفاد میں 10 اسٹرکچرل نقشوں کا مطالعہ کیا، جن میں سے 6 مقبوضہ مغربی کنارے میں اور 4 مقبوضہ بیت المقدس میں قابض بلدیہ کی حدود میں ہیں، جس کا مقصد 256 دونم رقبے پر 304 نئی آباد کار یونٹس تعمیر کرنا ہے۔

ان منصوبوں میں سب سے اہم سلفیت میں گاؤں یاسوف کی زمینوں پر قائم کفار تفوح بستی میں 92 دونم رقبے پر 136 یونٹس کی تعمیر کا منصوبہ ہے، اس کے علاوہ دیر استیا کی زمینوں پر قائم نوفیم بستی میں 149 دونم پر 168 یونٹس کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مسماری کے حوالے سے قابض اسرائیل کی افواج نے 37 کارروائیاں کیں جن میں 78 تنصیبات کو مسمار کیا گیا، جن میں آباد گھر، زرعی تنصیبات اور روزگار کے ذرائع شامل تھے۔ یہ کارروائیاں مقبوضہ بیت المقدس، رام اللہ، البیرہ اور بیت لحم میں مرکوز رہیں، جبکہ مختلف اضلاع میں مسماری کے مزید 21 نوٹس بھی جاری کیے گئے۔

مؤید شعبان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعداد و شمار ایک ایسی منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں بالخصوص بدو برادریوں کو جبری طور پر بے دخل کرنا ہے، تاکہ املاک کی تباہی اور زمینوں و درختوں کو نشانہ بنا کر بتدریج الحاق کے منصوبے کو مکمل کیا جا سکے اور زمین پر نئے حقائق مسلط کیے جا سکیں۔