مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کے مسلسل محاصرے اور طبی امداد و کیڑے مار ادویات کے داخلے پر پابندی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے خیموں میں چوہوں اور طفیلی کیڑوں کی بہتات نے صحت اور ماحول کی صورتحال کو انتہائی ابتر کر دیا ہے۔ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ان پرہجوم خیموں میں رہنے والے بچے بالخصوص بیماریوں اور وبائی امراض کے شدید خطرے کی زد میں ہیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد و بحالی کے ذمہ دار اقوام متحدہ کے ادارے "انروا” نے جمعرات کے روز بتایا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی اور طبی صورتحال کی تنزلی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ خیموں میں سوئے ہوئے بچوں کو چوہے کاٹ رہے ہیں۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ جبری نقل مکانی، خیموں میں شدید ازدحام، صاف پانی کی قلت اور ماحولیاتی صحت کے نظام اور بنیادی خدمات کی مکمل تباہی کے باعث غزہ کے باسیوں کو بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
انروا نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ عالمی ادارہ صحت اور مقامی شراکت داروں کے تعاون سے جلد کی بیماریوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز اور چوہوں اور کیڑوں کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ محصور غزہ کی پٹی میں خیمے، کیڑے مار ادویات اور ادویات کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
دو دن قبل بھی ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں چوہوں، جوؤں، پسوؤں اور دیگر کیڑوں کے پھیلاؤ سے ہزاروں افراد متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ قابض اسرائیل کی طرف سے امداد کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے باعث طبی مراکز ادویات اور ضروری سامان کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
ادارے نے اشارہ کیا کہ اس کی طبی ٹیمیں ریکارڈ کیے گئے کیسز میں سے صرف 40 فیصد کا علاج کرنے کے قابل ہیں، حالانکہ عام حالات میں سادہ ادویات کے ذریعے ان بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن ادویات اور طبی مواد کی کمی اس بحران کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ 25 اپریل سنہ 2026ء کو جاری ایک رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک غزہ کی پٹی میں چوہوں اور طفیلیوں سے متاثر ہونے والے 17 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ادارے نے متنبہ کیا کہ غزہ کے اندر انتہائی "مایوس کن اور خطرناک” حالات طبی امداد اور بحالی کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
عالمی ادارے نے مزید کہا کہ پناہ گزین مراکز اور خیموں میں گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی، نکاسی آب کے ناقص نظام اور صاف پانی کی عدم دستیابی خاندانوں، بالخصوص بچوں اور بے گھر افراد میں انفیکشن کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے۔
غزہ میں لاکھوں فلسطینی اپنے محلوں اور گھروں کی صہیونی سفاکیت کے نتیجے میں تباہی کے بعد عارضی خیموں اور پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف بنیادی ضروریات کے داخلے پر مسلسل پابندی کے باعث وسیع پیمانے پر طبی اور ماحولیاتی المیہ جنم لے رہا ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو قابض اسرائیل نے امریکہ کی پشت پناہی میں غزہ پر نسل کشی کی وہ جنگ شروع کی جو دو سال تک جاری رہی، جس میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔
اگرچہ گذشتہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے، لیکن قابض اسرائیل مسلسل محاصرے اور روزانہ کی بمباری کے ذریعے نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں اب تک 846 فلسطینی شہید اور 2418 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر مادی تباہی بھی پھیلائی گئی ہے۔
قابض حکام غزہ کے 24 لاکھ فلسطینیوں، جن میں 15 لاکھ بے گھر افراد شامل ہیں، کے لیے خوراک، ادویات، طبی سامان اور عارضی گھروں (پری فیب ہاؤسز) کی وہ مقدار فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں جس پر معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے صورتحال انتہائی تباہ کن ہو چکی ہے۔


