مقبوضہ مغربی کنارے میں زرعی زمینوں پر قابض اسرائیل اور یہودی آباد کاروں کے حملوں میں شدت

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی فوج اور انتہا پسند آباد کاروں نے جمعرات کے روز شمالی وادی اردن، جنوبی الخلیل اور شمال مغربی نابلس میں فلسطینیوں کی زرعی اراضی پر اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں میں زرعی گرین ہاؤسز (دفیئات) کی مسماری، فصلوں کی تباہی، کسانوں اور چرواہوں کا تعاقب کرنے کے ساتھ ساتھ آباد کاری کے لیے ایک نیا خیمہ نصب کرنا بھی شامل ہے۔

شمالی وادی اردن میں قابض اسرائیل کے بلڈوزروں نے بردلہ گاؤں کے قریب متعدد پلاسٹک کے زرعی گرین ہاؤسز کو مسمار کر دیا، جو مقامی کسانوں کی ملکیت تھے۔ یہ کارروائی ان گرین ہاؤسز کو ہٹانے کے لیے کئی ماہ قبل دیے گئے نوٹس کے بعد کی گئی ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ مسماری کی ان کارروائیوں میں کسان محمود توفیق صوافطہ کے دو دونم رقبے پر پھیلے گرین ہاؤسز اور واٹر نیٹ ورک، صقر نایف صوافطة کے چار دونم رقبے پر موجود گرین ہاؤسز اور واٹر نیٹ ورک، اور سحاب نایف صوافطة کے تین دونم رقبے پر محیط گرین ہاؤسز اور آبپاشی کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا۔

قابض حکام نے تقریباً تین ماہ قبل بردلہ کے اطراف میں 50 دونم کے قریب زرعی گرین ہاؤسز کو مسمار کرنے اور ہٹانے کا نوٹس دیا تھا، جو وادی اردن میں کسانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی منظم پالیسی کا حصہ ہے۔

جنوبی الخلیل میں مسلح آباد کاروں نے مسافر یطا کے علاقے میں درختوں اور زرعی فصلوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ دیگر آباد کاروں نے چرواہوں اور کسانوں کا تعاقب جاری رکھا اور انہیں ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روک دیا۔

مقامی سماجی کارکن اسامہ مخامرہ نے بتایا کہ آباد کاروں کے ایک گروہ نے یطا کے جنوب میں واقع واد الرخیم کے علاقے میں مویشیوں کے ریوڑ فلسطینیوں کے باغات میں چھوڑ دیے، جس کے نتیجے میں نضال شنران نامی شہری کے زیتون کے پودے تباہ اور اکھڑ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آباد کاروں نے قابض فوج کی سرپرستی میں مسافر یطا کے علاقوں ام القبور، واد الجوایا اور رجوم اعلی میں کسانوں اور چرواہوں کا تعاقب کیا اور انہیں طاقت کے زور پر اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد آباد کاروں نے اپنے مویشی زرعی کھیتوں میں داخل کر دیے، جس سے فصلوں کی بڑی مقدار تباہ ہو گئی۔

مسافر یطا کے علاقوں میں چرواہوں اور کسانوں کے خلاف آباد کاروں کی سفاکیت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کا مقصد رہائشیوں کو ان کی زمینوں اور چراگاہوں سے محروم کرنا ہے۔ یہ اقدامات زراعت اور مویشی پالنے پر منحصر سینکڑوں خاندانوں کے ذریعہ معاش کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

شمال مغربی نابلس میں آباد کاروں نے برقہ بلدیہ کے تحت المسعودیہ کے علاقے کی زمینوں پر آباد کاری کے لیے ایک نیا خیمہ نصب کر دیا ہے۔

دفاعِ اراضی المسعودیہ کمیٹی کے ذمہ دار ذیاب حجی نے بتایا کہ آباد کاروں کے گروہوں نے اس وقت علاقے میں بڑے پیمانے پر موجودگی اختیار کی جب کسان اپنی زمینوں میں موجود تھے۔ آباد کاروں نے وہاں ایک خیمہ نصب کیا اور اپنی بھیڑیں زرعی فصلوں میں چرنے کے لیے چھوڑ دیں۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ آباد کاروں کے ان حملوں سے زرعی فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔ انہوں نے اس علاقے کو نشانہ بنانے کے سنگین خطرات سے بھی خبردار کیا، کیونکہ یہاں پانی کا وہ کنواں موجود ہے جو ارد گرد کے کئی دیہات اور شہر نابلس کو پانی فراہم کرتا ہے۔