حزب اللہ کے ڈرونز نے قابض اسرائیلی فوج کو چکرا کر رکھ دیا، ٹیکنالوجیکل برتری خاک میں مل گئی

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

ایسے اشارے مسلسل بڑھ رہے ہیں کہ قابض اسرائیلی فوج کی وہ ٹیکنالوجیکل برتری جس پر وہ اپنی فضائی اور انٹیلی جنس لڑائیوں میں طویل عرصے سے انحصار کرتی آئی ہے، اب تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ کم لاگت مگر انتہائی مؤثر ڈرونز پر مبنی جنگی طریقوں کے ابھرنے سے لبنانی محاذ پر جاری جنگ ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں غاصب صہیونی دشمن کی برتری کا غرور خاک میں ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی نیٹ ورک "سی این این” نے ڈرون جنگ میں حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حزب اللہ ایسے جارحانہ طریقے تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جس نے قابض اسرائیلی فوج کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے اور اس قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صہیونی فوج کی محدود صلاحیتوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حزب اللہ اب ایسے خودکش ڈرونز استعمال کر رہی ہے جو "آپٹیکل فائبر” ٹیکنالوجی پر کام کرتے ہیں۔ ان ڈرونز کی نگرانی کرنا یا روایتی جیمنگ (تشویش) کے ذریعے ان کے سگنلز منقطع کرنا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ یہ وائرلیس سگنلز پر انحصار نہیں کرتے بلکہ آپٹیکل فائبر کی ایک باریک تار کے ذریعے براہ راست آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں جو نظر بھی نہیں آتی۔

امریکی نیٹ ورک کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بارود سے لدا ایک ڈرون جنوبی لبنان کے تباہ شدہ دیہاتوں کے اوپر انتہائی درستگی کے ساتھ اڑ رہا ہے، عمارتوں اور کچے راستوں سے گزرتے ہوئے اس نے ایک اسرائیلی ٹینک اور اس کے قریب موجود فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ آپریٹر کی اسکرین پر "بم تیار ہے” کی عبارت نمودار ہوئی، جو "سی این این” کے مطابق اس ڈرون کی آپریشنل درستی اور جدید ترین سطح کی عکاسی کرتی ہے۔

نیٹ ورک نے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ اس قسم کے ڈرونز آپریٹر کو 15 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک اہداف کی واضح اور ہائی ڈیفینیشن تصاویر فراہم کرتے ہیں، اور غاصب اسرائیل کے الیکٹرانک وارفیئر سیزٹم سے بچنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

قابض اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق یہوشوع کالیسکی نے اعتراف کیا کہ یہ ڈرونز الیکٹرانک جیمنگ سے محفوظ ہیں، اور الیکٹرانک سگنلز کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ جاننا تقریباً ناممکن ہے کہ انہیں کہاں سے لانچ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں حزب اللہ کے ایک ایسے حملے کا ذکر کیا گیا جس میں قابض اسرائیلی فوجی ڈرون کے پھٹنے سے چند لمحے پہلے تک اس کے قریب آنے سے بالکل بے خبر تھے۔ اس آپریشن میں قابض فوج نے اعتراف کیا کہ ان کا فوجی "عیدان فوکس” ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے، جس کے فوراً بعد حزب اللہ نے زخمیوں کو نکالنے کے لیے آنے والے امدادی ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنایا۔

سی این این نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج برسوں سے ڈرونز کے خلاف اپنی ٹیکنالوجیکل برتری اور الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم پر بھروسہ کرتی آئی ہے، لیکن ڈرونز کے اس نئے انداز نے اس سے یہ برتری چھین لی ہے۔

ایک اسرائیلی فوجی ذریعے نے نیٹ ورک کو بتایا کہ اس وقت ان ڈرونز کو روکنے کے لیے صرف مادی رکاوٹیں جیسے "لوہے کے جال” ہی دستیاب ہیں، اس نے اس خطرے کو "کم ٹیکنالوجی مگر شدید مؤثر” قرار دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قابض اسرائیلی فوج اب اپنی گاڑیوں اور فوجی ٹھکانوں کے اوپر حفاظتی جال لگانے پر مجبور ہو گئی ہے تاکہ ڈرونز کا مقابلہ کیا جا سکے، تاہم ایک صہیونی فوجی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ یہ طریقے مکمل طور پر قابل بھروسہ نہیں ہیں، خاص طور پر جب حزب اللہ بیک وقت کئی ڈرونز کے ذریعے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نیٹ ورک نے اس بات کی تصدیق کی کہ حزب اللہ ڈرونز چلانے کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جو لبنانی محاذ پر جاری جنگ میں ایک "مؤثر اور خطرناک ہتھیار” بن چکے ہیں۔ حزب اللہ جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے اندر موجود صہیونی فوجیوں کو براہ راست نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ بہت تیزی سے سیکھ رہی ہے اور اپنے فضائی حملوں کے طریقے مسلسل تیار کر رہی ہے، جبکہ قابض اسرائیلی فوج اب بھی اس نئے خطرے کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ 2 مارچ سنہ 2024ء سے قابض اسرائیل نے لبنان پر وسیع پیمانے پر جارحیت شروع کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں تازہ ترین لبنانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2759 افراد شہید اور 8512 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 1.6 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔