حکومت ایک طرف ڈاکٹروں کو کٹوتی شدہ (ادھوری) تنخواہیں دے رہی ہے، تو دوسری طرف نجی ہسپتالوں اور ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ذمے واجب الادا قرضے بے حد بڑھ چکے ہیں۔ نجی اور فلاحی ہسپتالوں کی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے گزشتہ کئی برسوں کے بقایاجات ادا نہ کیے تو شعبہ صحت مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔
احتجاج کی یہ لہر دیگر شعبوں تک بھی پھیل چکی ہے:
- تعلیمی شعبہ: فلسطین ٹیکنیکل یونیورسٹی (خضوری) کے ملازمین نے جزوی ہڑتال کرتے ہوئے نتائج کا اندراج اور اگلے سمسٹر کے داخلے روک دیے ہیں۔
- انجینئرز: انجینئرز یونین نے بھی ہڑتال میں شامل ہوتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک کام کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔
- عدالتی نظام: عدالتوں کے ملازمین کی جانب سے کام بند کیے جانے کے باعث عدالتی نظام بھی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جس سے قانونی چارہ جوئی کا عمل رک گیا ہے۔
- انجینئرز: انجینئرز یونین نے بھی ہڑتال میں شامل ہوتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک کام کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔
حکومت کا موقف
فلسطینی حکومت نے ان حالیہ ہڑتالوں پر تاحال کوئی براہِ راست ردعمل نہیں دیا، تاہم اس کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ بحران سیاسی ہے کیونکہ اسرائیل 2019 سے فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس فنڈز (مقاصہ) روک رہا ہے اور گزشتہ ایک سال سے یہ فنڈز تقریباً مکمل طور پر بند ہیں۔
بشکریہ: الشرق الاوسط، لندن، 10 مئی 2026


