غزہ پر بمباری
مرکز اطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع النصيرات کیمپ میں قابض اسرائیل کے طیاروں نے ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اتوار کی صبح ایک ہی خاندان کے تین معصوم افراد شہید اور کئی دوسرے فلسطینی زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض دشمن کے جنگی طیاروں نے النصيرات کیمپ میں ایک رہائشی فلیٹ پر بم گرائے جس کے نتیجے میں 38 سالہ فلسطینی شہری محمد ابراہیم ابو ملوح، ان کی 36 سالہ زوجہ آلاء مجدی زقلان اور ان کا معصوم شیر خوار بچہ اسامہ (عمر ایک سال) موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
اس کے علاوہ قابض اسرائیل کی فضائیہ نے غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع دير البلح شہر پر بھی خوفناک بمباری کی، جس کی وجہ سے نشانہ بننے والی جگہ پر شدید آگ بھڑک اٹھی اور شہر میں واقع یافا ہسپتال کے گرد و نواح کو شدید نقصان پہنچا۔
قابض فوج نے پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس شہر کے شمال مشرقی علاقوں میں بارود سے عمارتوں کو اڑانے کی کارروائیاں کیں، جبکہ اسی وقت غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو قابض اسرائیل کی وحشیانہ توپ خانے نے نشانہ بنایا۔
قابض دشمن کی فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں نے خان یونس شہر کے مشرق اور پٹی کے وسط میں واقع البريج کیمپ کے شمال مشرق میں اندھا دھند فائرنگ کی تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا سکے۔
قابض اسرائیل کی غاصب افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں، جہاں بے گھر مظلوم فلسطینیوں کی پناہ گاہوں پر فضائی اور توپ خانے سے مسلسل گولہ باری کی جا رہی ہے، اور نام نہاد یلو لائن کے اندر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تجارتی سامان، امداد کی ترسیل اور سفر پر ظالمانہ پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ دس اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 900 ہو چکی ہے، اس کے علاوہ 2677 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ملبے تلے دبے 777 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
غزہ کی پٹی پر جاری اس وحشیانہ جنگ کے آغاز یعنی سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک کی کل ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 72,793 شہدا اور 172,779 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے، جو اس پٹی پر مسلط کردہ سفاکیت اور جنگ کے بھاری انسانی نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


