مرکز اطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور سفاکانہ کارروائیوں میں تیزی لانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قابض اسرائیل ثالثوں اور ضامن ممالک کی تمام امن کوششوں کو انتہائی حقارت سے پامال کر رہا ہے۔
حازم قاسم نے اپنے ایک اخباری بیان میں مزید کہا کہ مجرم صیہونی دشمن نے غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع المغازی کیمپ میں ایک اور ہولناک قتلِ عام کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ بربریت ہمارے غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف جاری اسی نسل کشی کی ایک کڑی ہے جو اب تک تھمی نہیں ہے اور یہ سیز فائر کے معاہدوں کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کا تسلسل ہے جس کی جزوی ذمہ داری پیس کونسل پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ مکمل طور پر مفلوج، خاموش اور قابض اسرائیل کے ظالمانہ موقف کی حامی بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ یومِ عرفہ کے مقدس دن کے موقع پر اس لرزہ خیز قتلِ عام کا ارتکاب قابض اسرائیل کے بدصورت اور انتہائی متعصب چہرے کو دنیا کے سامنے مزید بے نقاب کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ غاصب صیہونی دشمن تمام مسلمانوں کے جذبات اور ان کے مذہبی اداروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں پیروں تلے روند رہا ہے۔
واضح رہے کہ سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی صیہونی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آج منگل کے روز غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع المغازی کیمپ پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے باعث مزید پانچ فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر گئے اور متعدد دیگر شدید زخمی ہوئے۔
مقامی ذرائع اور نامہ نگاروں نے رپورٹ دی ہے کہ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے آج صبح المغازی کیمپ میں شہریوں کے ایک اجتماع پر اندھا دھند بمباری کی جس کے نتیجے میں 5 فلسطینی شہید اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق غاصب اسرائیل کا یہ نشانہ دراصل قابض فوج کے ان ایجنٹوں اور آلات کاروں کو سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھا جنہوں نے علاقے میں نہتے شہریوں کے گھروں میں زبردستی گھسنے کی ناپاک کوشش کی تھی اور جب غیور مقامی شہریوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تو قابض اسرائیل کے ڈرون طیاروں نے مداخلت کر کے معصوم شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔


