مرکز اطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز ایک فلسطینی لڑکی کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور مسجدِ اقصیٰ مبارک کے دروازوں پر اس کا حجاب زبردستی اتارنے کے بعد حراست میں لے لیا۔
ایک ویڈیو کلپ میں قابض دشمن کے وحشی اہلکاروں کی طرف سے بابِ حطہ کے قریب ایک فلسطینی لڑکی کا پیچھا کرنے، اس کے چہرے پر زور دار تھپڑ مارنے اور اس کا حجاب کھینچ کر اتارنے کے لرزہ خیز لمحات کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ وہ لڑکی شدید مار پیٹ کی وجہ سے چیخ و پکار کر رہی تھی اور رو رہی تھی۔
اسی دوران قابض اسرائیلی درندوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے وسط میں واقع شارعِ یافا کے قریب یہودی آباد کاروں کی جانب سے وحشیانہ حملے کا نشانہ بننے کے بعد ایک نوجوان اسلام عبد القادر عید کو بھی گرفتار کر لیا۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس کے صحافی سیف القواسمی کو مسجدِ اقصیٰ کے صحن سے گرفتار کرنے کے بعد انہیں ایک ہفتے کے لیے مسجدِ اقصیٰ سے بے دخل کرنے کا ظالمانہ حکم نامہ بھی تھما دیا۔
دوسری طرف قابض اسرائیل نے محکمہ اوقاف کے ملازم فراس الدبس کو اس شرط پر رہا کیا کہ انہیں ایک ہفتے کے لیے مسجدِ اقصیٰ سے دور رکھا جائے گا جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ فراس الدبس کو آج صبح عید الاضحیٰ کے خطبے کے دوران مسجد کے صحن سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس سے قبل، غاصب قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع قصبے عناتا میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر اور اس کی تلاشی لے کر مقدسی شہری صلاح سامح علیان کو گرفتار کیا تھا، جبکہ شہر کے شمال میں واقع قلندیہ کیمپ پر دھاوے کے دوران ایک اور مقدسی نوجوان انس عدوان کو بھی اغوا کر کے حراست میں لے لیا گیا۔


