تحریکِ حماس نے اریحا شہر کے شمال میں واقع قصبے العوجا کے قریب اسرائیلی قبضے کی جانب سے ایک نئی یہودی بستی (آؤٹ پوسٹ) کے قیام کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس نے اسے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی سرگرمیوں میں اضافے اور زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
پیر کے روز حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، حماس کے رہنما محمود مرداوی نے کہا کہ اس نئی بستی کا قیام "مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کا حصہ ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ العوجا آبشار کے علاقے کو کئی سالوں سے قابض حکام کی سرپرستی اور حمایت میں یہودی آباد کاروں کے منظم حملوں کا جو سامنا ہے، وہ اس منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مغربی کنارے کے دیگر صوبوں کی طرح اس علاقے کو گھیرے میں لینا ہے، اور ہمارے عوام کے خلاف زبردستی بے دخلی اور (زمینیں) ضم کرنے کے منصوبے کو مستحکم کرنا ہے۔
مرداوی نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ یہودی بستیوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بستیوں کی تعمیر کے جرائم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض رہنماؤں کو ان کی مسلسل خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کریں۔
(العربی الجدید، لندن، 1 جون 2026)


