مرکز اطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی توسیع کی پالیسیوں میں اضافے پر خبردار کیا ہے جو طوباس اور جنین گورنری میں فلسطینی شہریوں کی وسیع اراضی پر قبضے کے نئے احکامات اور نوٹس جاری ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
تحریک نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ اقدامات الحاق اور بے دخلی کے ان منصوبوں کا حصہ ہیں جو فلسطینی سرزمین اور فلسطینی عوام کو ہدف بناتے ہیں۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ بستیوں کی توسیع مغربی کنارے میں زمینی حقائق مسلط کرنے کی پالیسی میں ایک خطرناک پیش رفت ہے۔
جماعت نے کہا کہ اراضی پر قبضے کے فیصلے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی خاموشی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں اور اشارہ کیا کہ ان پالیسیوں کا جاری رہنا بستیوں کی توسیع روکنے اور قابض اسرائیل کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے میں عالمی برادری کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
تحریک نے اس بات کی تصدیق کی کہ فوجی اور سکیورٹی بہانوں سے فلسطینی اراضی پر قبضہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے حقوق پر حملہ ہے جبکہ حماس نے فلسطینی عوام کے اپنی زمین اور قومی حقوق کے ساتھ وابستگی پر زور دیا۔
حماس نے مغربی کنارے کے باشندوں کو اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف استقامت اور ثابت قدمی کو مضبوط کرنے کی دعوت دی ہے اور عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اراضی پر قبضے کے اقدامات روکنے اور قابض اسرائیل کو اس کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری حرکت میں آئیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ اتوار کو طوباس اور جنین گورنری میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بہانے اراضی پر قبضے کے فوجی احکامات جاری کیے تھے۔
طوباس گورنری میں بستیوں کے فائل کے انچارج معتز بشارت نے واضح کیا کہ قابض حکام نے گورنری میں شہریوں کی ایک ہزار دو سو بیانوے دونم اراضی پر قبضے کا فوجی حکم جاری کیا ہے۔
جنین گورنری میں قابض حکام نے شہر کے جنوب میں واقع جبع قصبے کی تقریبا دو ہزار آٹھ سو مربع میٹر اراضی پر قبضہ کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے جو صانور قصبے کی زمینوں پر قائم ترسالہ بستی کے قریب واقع ہے۔
مزید برآں سکیورٹی وجوہات کے بہانے جنین کے جنوب میں واقع رابا قصبے میں تقریباً ایک سو چھبیس دونم رقبے پر پھیلی اراضی سے زیتون کے درخت اور پودے ہٹانے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ عراِبہ قصبے میں عسکری مقاصد کے لیے مزید ایک سو اٹھائیس دونم سرکاری اور نجی اراضی پر قبضے کا ایک اور نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قابض حکام کی جانب سے بستیوں کی توسیع اور اراضی پر قبضے کی پالیسی کا حصہ ہیں جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے ان کے فلسطینی سرزمین کے مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں شدید انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں۔


