مرکز اطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ نے پقابض اسرائیل کے خلاف ایران اور یمن کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں کو سراہتے ہوئے کہا ہےکہ یہ کارروائیاں لبنان اور پورے خطے میں جاری اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے تناظر میں کی گئی ہیں۔
حماس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے علاوہ لبنان پر جاری قابض اسرائیل کی سفاکیت کو روکنا ایک فوری ترجیح بن چکی ہے جس کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر فوری کوششوں کی ضرورت ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی پالیسیاں ہی خطے میں کشیدگی کا بنیادی ذریعہ ہیں اور ان کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
حماس نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل نے غزہ اور لبنان اور ایران میں اپنی عسکری کارروائیوں اور معاہدوں و مفاہمتوں سے مسلسل انحراف کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی میثاق اور وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے جو عدم استحکام کی صورتحال کو مزید بگاڑ رہا ہے اور خطے کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
جماعت نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی حملے کسی ایک فریق کو ہدف نہیں بنا رہے بلکہ وہ خطے کے عوام اور ان کے وسائل کو متاثر کر رہے ہیں۔ حماس نے ان پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحد موقف اپنانے اور جارحیت کو روکنے کے لیے یکجہتی اور حمایت کے مختلف ذرائع کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔
حماس نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی علاقوں اور خطے میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور قابض اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے کام کرے تاکہ شہریوں کے تحفظ اور علاقائی سکیورٹی و استحکام کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔


