سلطہ (فلسطینی اتھارٹی) اور قابض فوج کے درمیان کوآرڈینیشن کے تحت مزاحمت کاروں کی گرفتاریوں میں تیزی

0
2

میدانی اور انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں مطلوبہ افراد اور مزاحمت کاروں کی 25 سے زائد گرفتاریوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جنہیں فلسطینی اتھارٹی (سلطہ) کے سکیورٹی اداروں کی جیلوں سے رہا ہوتے ہی اسرائیلی قابض افواج نے دوبارہ گرفتار کر لیا ۔ یہ ایک ایسا مظہر ہے جو واضح طور پر بار بار دہرایا جا رہا ہے اور اس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے ۔ ایسے متعدد مزاحمت کاروں اور مطلوبہ افراد کے کیسز دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں جنہیں فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں سے رہا ہونے کے محض چند گھنٹوں یا دنوں کے اندر ہی قابض افواج نے دوبارہ حراست میں لے لیا ۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر "گھومنے والے دروازے” (سیلپنگ ڈور / الباب الدوار) کی پالیسی اور فلسطینی اتھارٹی کے اداروں اور قابض فوج کے درمیان سکیورٹی کوآرڈینیشن (سکیورٹی تعاون) کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے ۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب مغربی کنارے میں قابض فوج کی جانب سے چھاپوں، گرفتاریوں اور ملاحقوں کی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور اس کے ساتھ ہی مستوطنین (صیہونی آبادکاروں) کے حملے اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت بھی مسلسل جاری ہے ۔ (المرکز الفلسطيني للإعلام، 11/6/2026) ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں